Business
خواتین بطور سرمایہ کار: مردوں کے مقابلے میں منافع کی شرح زیادہ کیوں؟
برطانیہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگرچہ مردوں کی نسبت خواتین سرمایہ کاروں کی تعداد کم ہے، لیکن ان کا منافع مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کا محتاط انداز اور طویل مدتی منصوبہ بندی انہیں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
برطانیہ میں مالیاتی امور پر کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے یہ حیران کن اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ خواتین سرمایہ کار اکثر اپنے مرد ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر مالیاتی نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ سرمایہ کاری کے میدان میں خواتین کی شرکت کا تناسب مردوں کی نسبت اب بھی کافی کم ہے، تاہم جو خواتین اس شعبے میں قدم رکھتی ہیں، وہ اپنی محتاط حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی بدولت زیادہ منافع کمانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں صرف ایک چوتھائی خواتین ہی سرمایہ کاری کرتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
اس رجحان کی بنیادی وجہ خواتین کا سرمایہ کاری کے بارے میں محتاط رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مالیاتی مشیروں کا ماننا ہے کہ خواتین جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز کرتی ہیں، جس سے انہیں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران زیادہ نقصان نہیں ہوتا اور وہ ایک مستحکم منافع حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ اس کے برعکس، بہت سے مرد سرمایہ کار اکثر تیزی سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی خواہش میں زیادہ خطرات مول لیتے ہیں، جو بعض اوقات مالی نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ ایک مثال کے طور پر، ایک خاتون سرمایہ کار نے اپنے بیس کی دہائی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا اور 8,000 پاؤنڈز تک کی بچت جمع کرنے میں کامیاب ہوئیں، جو ان کی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اگرچہ خواتین میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن ابھی بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرتی دقیانوسی تصورات اور مالیاتی خواندگی کی کمی کے باعث خواتین سرمایہ کاری سے کتراتی ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ایپس اور آن لائن سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز نے خواتین کے لیے اس شعبے میں داخل ہونے کو آسان بنا دیا ہے۔ اگر خواتین میں مالیاتی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور انہیں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع سے آگاہ کیا جائے تو نہ صرف وہ اپنی ذاتی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی زیادہ متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سرمایہ کاری صرف مردوں کا میدان نہیں ہے بلکہ یہ ہر اس فرد کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے جو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ خواتین کا منظم انداز اور خطرات کو تولنے کی عادت انہیں مستقبل کے لیے ایک کامیاب سرمایہ کار بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیاں ترتیب دیں جو خواتین کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے اور انہیں مالی خود مختاری کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوں۔