LIVE
Loading Breaking News...

ہیٹ ویو اور معذور افراد کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت

News Image
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے دوران معذور افراد کے لیے سرکاری ہدایات خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے اقدامات میں معذور افراد کی خصوصی ضروریات کو شامل کیا جائے۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویو یا شدید گرمی کی لہروں کا دورانیہ اور شدت بڑھتی جا رہی ہے، تاہم ان حالات میں معذور افراد کے لیے جاری کردہ سرکاری ہدایات اکثر غیر عملی اور غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں۔ معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ عمومی حفاظتی نکات اکثر ان لوگوں کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو نقل و حرکت یا طبی لحاظ سے خاص حالات کا شکار ہیں۔ بہت سے معذور افراد کے لیے گھروں میں رہنا یا ٹھنڈے مقامات تک پہنچنا ناممکن ہوتا ہے، اور ایسے میں حکومتی مشورے ان کی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران دی جانے والی ہدایات میں اکثر ٹھنڈے پانی سے نہانے یا مسلسل ہائیڈریٹ رہنے کا کہا جاتا ہے، لیکن یہ ہدایات ان لوگوں کے لیے ناقابل عمل ہیں جو خود سے اپنی دیکھ بھال نہیں کر سکتے یا جنہیں گردے اور دل جیسے امراض کی وجہ سے پانی کی مقدار کو محدود رکھنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی میں بہت سے معذور افراد کو طبی آلات استعمال کرنے پڑتے ہیں جو زیادہ درجہ حرارت میں خراب ہو سکتے ہیں، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ان افراد کے لیے کسی جان لیوا خطرے سے کم نہیں ہوتی۔ کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران ایسے افراد کی شناخت کی جائے جنہیں ہنگامی مدد کی ضرورت ہے اور انہیں براہ راست سہولیات فراہم کی جائیں۔ بقا کی اس جنگ میں معذور طبقہ سب سے زیادہ تنہا اور غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں معذور افراد کے گھروں تک امدادی ٹیمیں پہنچیں اور انہیں ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے لیے کولنگ سینٹرز تک محفوظ رسائی دی جائے۔ یہ صرف ایک موسمیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے، کیونکہ جب قدرتی آفات آتی ہیں تو معاشرے کا کمزور طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہیٹ ویو کے دوران حفاظتی اقدامات میں معذور افراد کی تنظیموں کو مشاورت میں شامل کرے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔