World
ٹرمپ کا ایران سے ہرجانے کا مطالبہ: آبنائے ہرمز کے معاملات پر تنازعہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی مشروط پیشکش کے جواب میں بھاری معاوضے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے سائے میں جاری یہ مذاکرات خطے میں نئی سفارتی بحث چھیڑ چکے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ سفارتی کشیدگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے پچاس سالہ نقصانات کے ازالے کے لیے بھاری معاوضے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دونوں ممالک کے مابین خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات جاری ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے پابندیاں ہٹانے اور گزرگاہ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے جنگی ہرجانے کی شرط رکھی تھی، جس کے جواب میں امریکی قیادت نے یہ سخت موقف اختیار کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنی شرائط لاگو کرنے کی کوشش کو امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اپنی معاشی مفادات پر حملہ قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ایران کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا حساب اب چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ اس موقف نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے اور سفارتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ مطالبات مذاکرات کو کسی تعطل کی طرف نہ لے جائیں۔
دوسری جانب تہران نے امریکی مطالبے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ خطے میں موجودہ حالات کے ذمہ دار وہ بیرونی طاقتیں ہیں جو دہائیوں سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ دونوں اطراف کے متضاد مطالبات کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ مذاکرات کا عمل ابھی جاری ہے، لیکن کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو اپنے جارحانہ بیانیے میں لچک پیدا کرنی ہوگی، بصورت دیگر عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ کیا عالمی طاقتیں اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتی ہیں یا پھر یہ تنازعہ مزید سنگین رخ اختیار کر لے گا۔ واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے ہی اس گزرگاہ کی اہمیت مسلمہ ہے، اس لیے سفارتی ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کسی ایسے درمیانی راستے پر متفق ہو جائیں گے جس سے عالمی تجارت کو نقصان نہ پہنچے۔ تاہم فی الحال، دونوں جانب سے کیے گئے مطالبات نے بین الاقوامی سیاست کے میدان میں گرما گرم بحث کا آغاز کر دیا ہے۔