World
ڈونلڈ ٹرمپ کا بچوں کی ویکسینیشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بچپن میں لگائی جانے والی ویکسین کی تعداد میں کمی لائی جائے گی۔ اس حکم نامے میں ایم ایم آر ویکسین کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحت عامہ سے متعلق ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے بچوں کو دی جانے والی حفاظتی ویکسینیشن کے عمل میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیا ہے۔ حال ہی میں دستخط کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ بچپن میں لگائی جانے والی ویکسین کی مجموعی تعداد کو کم کیا جائے۔ اس فیصلے کا مقصد طبی ماہرین اور ناقدین کے خدشات کے پیش نظر ویکسینیشن کے موجودہ نظام میں نظرثانی کرنا ہے تاکہ بچوں کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس نئے صدارتی حکم نامے کا سب سے اہم پہلو ایم ایم آر (خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا) ویکسین سے متعلق ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ اس ویکسین کو، جو فی الحال ایک ہی شاٹ میں دی جاتی ہے، تقسیم کر کے الگ الگ حصوں میں فراہم کیا جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ویکسینیشن کے حوالے سے والدین کے خدشات کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو طویل عرصے سے ایک ساتھ کئی بیماریوں کی ویکسین دینے کے اثرات پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ فیصلہ امریکی ہیلتھ سیکٹر میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کے لیے ویکسینیشن کے عمل کو مزید محفوظ اور قابلِ قبول بنانا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ویکسین کی تعداد میں کمی اور ان کی تقسیم کے طریقہ کار میں تبدیلی سے نہ صرف والدین کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ صحت عامہ کے شعبے میں شفافیت بھی آئے گی۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد طبی حلقوں اور سائنسی تنظیموں کی جانب سے بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ تبدیلی حفاظتی ٹیکوں کی افادیت کو متاثر کرے گی یا نہیں۔
حکومت اب اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ طبی اداروں اور صحت کے محکموں کے ساتھ مشاورت کرے گی۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں صحت کے حکام اس نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے رہنما خطوط جاری کریں گے، جس کے تحت طبی مراکز کو بچوں کی ویکسینیشن کے نئے شیڈول اور طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو ان کی انتظامیہ کی صحت کی پالیسیوں کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔