LIVE
Loading Breaking News...

سابق آئی سی ای حکام کا انکشاف، اعداد و شمار کی دوڑ اور اموات

News Image
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے سابق قائم مقام چیف آف سٹاف نے انکشاف کیا ہے کہ عملے کی بھرتی اور حراستی اعداد و شمار کو پورا کرنے کی جلدی مہلک غلطیوں کو جنم دے رہی ہے۔ اس صورتحال سے اداروں کی کارکردگی اور انسانی حقوق پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار اور قائم مقام چیف آف سٹاف نے ایک اہم انکشاف کیا ہے جس کے مطابق ادارے کے اندر افسران کی جلد بازی میں بھرتی اور حراستی اعداد و شمار کو پورا کرنے پر غیر ضروری توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان سنگین اور جان لیوا غلطیوں کا سبب بن رہا ہے، جس سے انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں سابق اہلکار نے واضح کیا کہ جب بھی کوئی ادارہ مقدار یعنی کوانٹٹی کو معیار یعنی کوالٹی پر فوقیت دیتا ہے، تو انتظامی ڈھانچے میں کمزوریاں پیدا ہونا لازمی ہو جاتی ہیں۔ اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں اہداف کے حصول کے لیے دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ حفاظتی اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران امیگریشن کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس نئے انکشاف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر پالیسیوں میں اصلاحات نہ کی گئیں تو اس قسم کے حادثات اور اموات کا سلسلہ رک نہیں سکے گا۔