LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا میں زلزلہ، فوجی بیرکیں تباہ، امدادی کارروائیاں جاری

News Image
کولمبیا کے شہر کالی میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں فوجی بیرکوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران فوجی جوانوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔
کولمبیا کے شہر کالی میں منگل کے روز آنے والے ایک شدید زلزلے نے تباہی مچا دی ہے، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کے طاقتور جھٹکوں کے باعث شہر کے مختلف حصوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک فوجی بیس بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلہ آتے ہی فوجی بیرکیں لرز اٹھیں اور زمین بوس ہو گئیں، جس کے بعد وہاں موجود اہلکاروں میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے دکھائی دیے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز کالی شہر کے قریب واقع تھا، جس کے باعث فوجی تنصیبات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ زمین میں دراڑیں پڑ گئیں اور آس پاس کی دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ فوجی حکام نے فی الحال ہلاکتوں یا زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم بیس پر موجود اہلکاروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کی مدد لی جا رہی ہے۔ زلزلے کے بعد علاقے میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے کافی دور تک محسوس کیے گئے جس کی وجہ سے خطے کے دیگر شہروں میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ فوجی بیرکوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے انجینئرز کی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد صورتحال پر قابو پایا جا سکے اور نقصانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ کولمبیا کی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ طبی امداد کے مراکز میں ہنگامی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی اس قدرتی آفت پر دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فی الحال ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کی پوری کوشش ہے کہ جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جائے۔