LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا ٹیکس جرمانوں پر اہم فیصلہ: ماضی کے جرمانوں کا اطلاق غیر قانونی

News Image
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ 2002 سے قبل کے ٹیکس معاملات پر نئے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جرمانے عائد نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی واضح شق کے بغیر کسی بھی ٹیکس قوانین کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 30 جون 2002 سے قبل مکمل ہونے والے ٹیکس گوشواروں یا تخمینہ جات پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت جرمانے عائد کرنا غیر قانونی اور بلا جواز ہے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی 17 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ جب تک قانون میں واضح طور پر ماضی سے نفاذ (Retrospective effect) کا ذکر نہ ہو، نئے قوانین کو پرانے معاملات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ایک طویل عرصے سے جاری قانونی تنازعہ کو حل کرتا ہے جو خاص طور پر الی للی پاکستان کیس اور اسلامک انویسٹمنٹ بینک کیس کے متضاد فیصلوں کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت جسٹس عقیل احمد عباسی نے کی، جنہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کے منسوخ ہونے کے بعد، اس کے تحت ہونے والی اسسمنٹ کے معاملات پر اسی پرانے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے تھا۔ عدالت نے 2009 کے الی للی کیس کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے حقوق اور ذمہ داریاں اسی قانون کے تحت طے ہوتی ہیں جو متعلقہ ٹیکس سال کے دوران نافذ العمل ہوتا ہے۔ عدالت نے 2016 کے اسلامک انویسٹمنٹ بینک کیس کے فیصلے کو قانون کی نظر میں غلط قرار دیا، جس میں اس سے قبل یہ موقف اپنایا گیا تھا کہ ریاست کو ٹیکس وصولی کا حق کسی بھی وقت حاصل ہو سکتا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 182، 184 اور 186 کے تحت عائد کردہ جرمانے ان اسسمنٹس پر لاگو نہیں ہو سکتے جو منسوخ شدہ آرڈیننس 1979 کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ ٹیکس قوانین میں اگر کوئی ایسی ترمیم کی جائے جو کسی فرد پر جرمانہ عائد کرتی ہو یا اس کی ٹیکس کی ذمہ داری میں اضافہ کرتی ہو، تو اس کا اطلاق صرف مستقبل کے لیے ہی ہو سکتا ہے، سوائے اس کے کہ قانون میں واضح طور پر اس کے ماضی سے نفاذ کا ذکر موجود ہو۔ اس فیصلے کے بعد ٹیکس حکام کی جانب سے پرانے سالوں کے لیے جاری کیے گئے جرمانوں کے نوٹسز اپنی قانونی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ کیس کا پس منظر یہ ہے کہ راولپنڈی کے ایک ٹیکس دہندہ کے خلاف 1999 میں خریدی گئی جائیداد پر ٹیکس کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد ان پر 1979 کے قانون کے تحت جرمانے عائد کیے گئے تھے۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جسے ہائی کورٹ نے بھی مسترد کر دیا تھا، اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس اپیل کو قانون کے منافی قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے ٹیکس حکام کی جانب سے من مانی کے ذریعے ماضی کے معاملات کو دوبارہ کھولنے کے عمل پر قدغن لگ گئی ہے۔