LIVE
Loading Breaking News...

ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال: مذاکرات جاری، معاشی سرگرمیاں شدید متاثر

News Image
پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مال برداری اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ حکومتی کمیٹی اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج متوقع ہے جس میں ڈیڈلاک ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان میں گڈز اور آئل ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شروع کی گئی پہیہ جام ہڑتال تیسرے روز بھی ملک بھر میں جاری ہے، جس کے باعث مال برداری کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ کراچی کے شیریں جناح کالونی ٹرمینل سمیت ملک بھر کے اہم تجارتی مراکز پر ٹرک اور آئل ٹینکرز کھڑے ہونے سے اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی ترسیل میں شدید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور تاحال بے نتیجہ ثابت ہوا ہے، تاہم فریقین آج پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس بحران کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پیش کردہ مطالبات میں بنیادی طور پر تین اہم نکات شامل ہیں جن کا تعلق مختلف وزارتوں سے ہے۔ ٹرانسپورٹرز مطالبہ کر رہے ہیں کہ 10 پہیہ والی گاڑیوں کے وزن کی حد 27.5 ٹن سے بڑھا کر 35 ٹن کی جائے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹول ٹیکس میں کمی کی جائے۔ اس کے علاوہ، ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے بجائے ماہانہ نظرثانی کی جانی چاہیے تاکہ ان کے کاروباری معاملات میں استحکام آ سکے۔ سرکاری سطح پر کمیٹی کی قیادت وفاقی وزیر مواصلات علیم خان اور پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کر رہے ہیں، جن میں ایف بی آر اور دیگر متعلقہ حکام بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے ہڑتال کے ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر مال برداری کا یہ سلسلہ جلد بحال نہ ہوا تو صنعتی پیداوار، خام مال کی فراہمی اور برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل ناممکن ہو جائے گی، جس سے قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ کے سی سی آئی نے دونوں فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ ملک کو مزید معاشی نقصان سے بچایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے، تاہم ٹول ٹیکس اور ایکسل لوڈ کے معاملات پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے ترجمان ایڈووکیٹ محمد اویس چوہدری نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی، ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔ اب تمام تر نظریں آج ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جن سے عوام اور صنعت کار امید کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا تاکہ معمول کی تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔