World
کولمبیا میں زلزلہ: 111 ہلاکتیں اور ہنگامی حالت کا نفاذ
کولمبیا کے مغربی علاقوں میں آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں 111 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
کولمبیا کے مغربی خطے میں پیر کی صبح آنے والے 7.4 شدت کے ایک طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 111 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زلزلے کا مرکز ساحلی علاقے چوکو میں 100 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا، جس کے جھٹکے صبح 7:34 بجے محسوس کیے گئے۔ اس قدرتی آفت نے کولمبیا کی نئی انتظامیہ کے لیے پہلے ہی دن ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ صدر ایبریلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے بوگوٹا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ آبادی کی مدد اور جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
زلزلے کے باعث پیرایرا شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کیتھڈرل کے ٹاور سمیت متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ مقامی حکام کے مطابق صرف ریسارالڈا کے علاقے میں 40 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر کیلی میں کم از کم 20 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہوئیں جن کے نیچے اب بھی کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ چوکو کے گورنر نے کوئبڈو شہر میں بھی شدید نقصانات کی تصدیق کی ہے، جہاں مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تباہی کا منظر انتہائی ہولناک ہے اور بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت بوگوٹا سمیت ایکواڈور، پانامہ اور وینزویلا تک محسوس کیے گئے۔ دارالحکومت میں عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا جبکہ فضائی سفر کے لیے استعمال ہونے والے مغربی کولمبیا کے چھ چھوٹے ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ کولمبیا کی فٹ بال فیڈریشن نے بھی تمام میچز ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں میں خوف و ہراس کا یہ عالم ہے کہ آفٹر شاکس کے ڈر سے لوگ اپنے گھروں میں واپس جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی کولمبیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین نے امداد کی پیشکش کی ہے۔ یورپی یونین نے ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے اپنی سیٹلائٹ سروس کوپرنیکس بھی متحرک کر دی ہے۔ اسرائیل، میکسیکو، فرانس اور ایکواڈور سمیت کئی ممالک نے بھی امدادی ٹیمیں اور سامان بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بدستور برقرار ہے۔