Technology
برٹش ایئرویز کا اے آئی کا استعمال اور بہتر کارکردگی
برٹش ایئرویز نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی پروازوں کی بروقت روانگی کے ریکارڈ کو بہتر بنا لیا ہے۔ ایئرلائن کے سی ای او شان ڈائل نے اس ٹیکنالوجی کو فضائی سفر میں دیر سے بچاؤ کے لیے گیم چینجر قرار دیا ہے۔
برٹش ایئرویز نے حالیہ برسوں کے دوران لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پیش آنے والی پروازوں میں تاخیر اور منسوخی جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک انتظامی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اب ایئرلائن کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پروازیں اب اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلی ایئرلائن کی انتظامی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے۔ برٹش ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شان ڈائل نے اس نئی ٹیکنالوجی کو ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک 'گیم چینجر' قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ صرف پروازوں کے شیڈول کو درست رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس سے مسافروں کو بھی بہتر سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اعداد و شمار کا بروقت تجزیہ کرنے سے ہمیں ان عوامل کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے جو ممکنہ تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوی ایشن جیسے پیچیدہ شعبے میں جہاں موسم کی تبدیلی، عملے کی دستیابی اور ایئرپورٹ پر رش جیسے مسائل ہر وقت موجود رہتے ہیں، مصنوعی ذہانت کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ برٹش ایئرویز کا یہ قدم دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو اپنے آپریشنل اخراجات کو کم کرنے اور مسافروں کے اطمینان کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہونے والے ہجوم کو سنبھالنے اور طیاروں کی مینٹیننس کے نظام کو بھی مزید منظم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مجموعی طور پر برٹش ایئرویز کا یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی سے لیس ہونا ایئرلائنز کی بقا اور کامیابی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ آنے والے وقتوں میں، امید کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مزید ایڈوانس ماڈلز فضائی سفر کو نہ صرف محفوظ بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ وقت کی پابندی والا بنا دیں گے۔