Technology
کورین چپ کمپنی کے سابق ملازم کو جاسوسی پر سزا
سیول ہائی کورٹ نے ایس کے ہائنکس کے سابق ملازم کی سزا برقرار رکھی ہے جس پر چینی کمپنیوں کو حساس ٹیکنالوجی کے راز دینے کا الزام تھا۔ ملزم نے ملازمت کے حصول کے دوران ہواوے کی ذیلی کمپنی سمیت دیگر چینی اداروں کو امیج سینسر کی خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ایس کے ہائنکس (SK Hynix) کے ایک سابق ملازم کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے 18 ماہ قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے اپنی سابقہ ملازمت کے دوران حاصل کردہ انتہائی حساس اور خفیہ ٹیکنالوجی کے ڈیٹا کو چینی کمپنیوں تک پہنچایا۔ یہ معاملہ جدید سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ڈیٹا کی حفاظت اور تجارتی جاسوسی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزم نے اپنی ملازمت تبدیل کرنے کے عمل کے دوران کمپنی کے سی ایم او ایس (CMOS) امیج سینسر سے متعلق خفیہ تکنیکی معلومات کو غیر قانونی طور پر حاصل کیا اور اسے چینی کمپنیوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کمپنیوں میں ہواوے (Huawei) کی ذیلی چپ ساز کمپنی 'ہائی سلیکون' (HiSilicon) بھی شامل تھی۔
سیول ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا یہ اقدام نہ صرف کمپنی کے تجارتی مفادات کے لیے نقصان دہ تھا بلکہ یہ قومی ٹیکنالوجی کی حفاظت کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والی یہ ٹیکنالوجی ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس طرح کے حساس رازوں کا افشاء ہونا سکیورٹی رسک کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کیس نے عالمی سطح پر چپ بنانے والی کمپنیوں کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی نگرانی اور ڈیٹا کے تحفظ کے نظام کو مزید سخت کریں۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت پہلے ہی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کو اپنے 'قومی اثاثہ' قرار دے چکی ہے، اور اس کی چوری کو روکنے کے لیے قانون سازی کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ اس سزا کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھی اب ملازمین کی جانب سے ڈیٹا لیک کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ایس کے ہائنکس نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تکنیکی میدان میں بین الاقوامی مسابقت کے دوران تجارتی جاسوسی اب ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے قانونی ڈھانچہ مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔