LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سطح پر یو پی آئی (UPI) کا پھیلاؤ: این پی سی آئی کی نئی حکمت عملی

News Image
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کی بڑی تعداد کو ہدف بنا کر یو پی آئی سسٹم کو عالمی سطح پر پھیلانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے دس برسوں میں 15 سے 20 ممالک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اس نظام کو متعارف کروانے کا ارادہ ہے۔
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے اپنے مقبول ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام 'یو پی آئی' (UPI) کو عالمی سطح پر وسعت دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی محور وہ ممالک ہیں جہاں بھارتی نژاد تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے۔ این پی سی آئی کے سی ای او دلیپ آسبے کے مطابق، یہ اقدام یو پی آئی کو عالمی ادائیگیوں کے نقشے پر ایک نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگا اور اگلے ایک دہائی کے دوران اس نظام کو 15 سے 20 نئی بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کروایا جائے گا۔ فی الحال، این پی سی آئی کئی اہم ممالک کے ساتھ فعال مذاکرات کر رہا ہے تاکہ یو پی آئی کی ٹیکنالوجی کو ان کے مقامی مالیاتی نظام کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔ ان ممالک میں جاپان، ملائیشیا اور بحرین سرفہرست ہیں، جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد جو مسلسل اپنے آبائی ملک رقوم بھیجتی ہے یا وہاں سے کاروباری لین دین کرتی ہے، اس سسٹم کو اپنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ پیش رفت نہ صرف ترسیلاتِ زر کو آسان بنائے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل معیشت کے انضمام کو بھی فروغ دے گی۔ اس توسیعی منصوبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگا۔ این پی سی آئی یو پی آئی کے نیٹ ورک کو زیادہ محفوظ اور موثر بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز کو بھی تلاش کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سرحدوں کے پار ہونے والی لین دین میں سیکورٹی اور رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یو پی آئی کا یہ عالمی سفر نہ صرف بھارتی ٹیکنالوجی کی برآمد ہے بلکہ یہ ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشتوں کے لیے ایک ماڈل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے این پی سی آئی کے عزائم بہت بلند ہیں۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے، تو یو پی آئی دنیا بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد ذریعہ بن سکتا ہے۔ بھارتی نژاد افراد، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں، یو پی آئی کے عالمی پھیلاؤ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ حکومتی سطح پر بھی اس منصوبے کو عالمی مالیاتی کنیکٹوٹی بڑھانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔