Technology
منی سمپلر اے آئی ٹریڈنگ ایپ: بھارت میں سرمایہ کاری کا نیا انقلاب
منی سمپلر نے حال ہی میں بھارت میں اپنی جدید 'نو کوڈ' خودکار ٹریڈنگ ایپ متعارف کرائی ہے جس سے مالیاتی انتظام کا تجربہ تبدیل ہو رہا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت بھارتی صارفین کی سرمایہ کاری پر منافع کی شرح میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
ممبئی، بھارت میں 8 اگست 2026 کو منی سمپلر (MoneySimpler) نے باضابطہ طور پر اپنی 'نو کوڈ' خودکار ٹریڈنگ ایپلی کیشن کا آغاز کر دیا ہے، جس نے ملکی مالیاتی مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس جدید ایپ کا مقصد عام صارفین کو پیچیدہ کوڈنگ یا ٹریڈنگ کے گہرے علم کے بغیر مصنوعی ذہانت (AI) کی طاقت سے سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنانا ہے۔ لانچ کے چند ہی دنوں کے اندر، اس ایپ نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، خاص طور پر ان افراد کی جو طویل عرصے سے اسٹاک مارکیٹ میں منافع کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
کمپنی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں اس ایپ کو استعمال کرنے والے ابتدائی صارفین کی جانب سے منافع کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اے آئی الگورتھم کی مدد سے یہ ایپ مارکیٹ کے رجحانات کا بروقت تجزیہ کرتی ہے اور خود بخود خرید و فروخت کے فیصلے لیتی ہے، جس سے انسانی جذبات کی وجہ سے ہونے والی غلطیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ بھارت میں فن ٹیک (FinTech) کے مستقبل کو ایک نئی جہت دے رہا ہے اور اب چھوٹے سرمایہ کار بھی بڑی مارکیٹ کے مقابل کھڑے ہونے کے قابل ہو رہے ہیں۔
مزید برآں، منی سمپلر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی ہدف مالیاتی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ ایپ کا 'نو کوڈ' انٹرفیس اسے کسی بھی عام صارف کے لیے انتہائی سادہ بناتا ہے، جس سے مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری آتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا، تو آنے والے مہینوں میں بھارت کے ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی، اور صارفین روایتی بینکنگ کے ساتھ ساتھ خودکار اے آئی پلیٹ فارمز پر زیادہ اعتماد کا اظہار کریں گے۔