Business
نائجیریا میں پٹرولیم ورکرز کی تحریک: لوئیس اوگبیفن کے خیالات
لوئیس اوگبیفن نے نائجیریا میں پٹرولیم اور قدرتی گیس کی یونین پین گاسن کے لیے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا نیا روڈ میپ پیش کیا ہے۔ یہ اقدام بدلتے ہوئے معاشی حالات میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نائجیریا کی بدلتی ہوئی معاشی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے نشیب و فراز نے مزدور تنظیموں کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس تناظر میں پٹرولیم اینڈ نیچرل گیس سینئر سٹاف ایسوسی ایشن آف نائجیریا (PENGASSAN) کے پورٹ ہارکورٹ زون نے اپنے سابقہ رہنما لوئیس اوگبیفن کی بصیرت کو کلیدی حیثیت دی ہے۔ اوگبیفن، جنہوں نے طویل عرصہ یونین کی قیادت کی ہے، کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی رجحانات اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست نائجیریا کے آئل ورکرز پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبر یونینز کو اب روایتی مطالبات سے آگے بڑھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی تاکہ کارکنان کے مفادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اوگبیفن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نائجیریا کی لیبر تحریک کو آج جس بحران کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن اور جدید حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، 2003 سے اب تک یونین نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو قیادت کے لیے تیار کیا جائے اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو مزدوروں کے حق میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لیبر تنظیموں نے خود کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا تو وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہیں گی، جس کا نقصان براہ راست مزدور طبقے کو ہوگا۔
تجزیہ کار اوئی لاکیمفا کے مطابق، لوئیس اوگبیفن کا وژن محض یونین کی بہتری تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ نائجیریا کی معاشی خوشحالی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اوگبیفن کا یہ ماننا ہے کہ جب تک مزدوروں کو پالیسی سازی میں شامل نہیں کیا جاتا، تب تک پٹرولیم سیکٹر میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر ان چیلنجز کا سامنا کریں جو گلوبلائزیشن اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی نجکاری کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی یہ بصیرت آنے والے دنوں میں نائجیریا کی مزدور تنظیموں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کی جنگ زیادہ منظم اور موثر طریقے سے لڑ سکیں۔