LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سیاسی بحران اور شہباز شریف حکومت کا مستقبل

News Image
پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور داخلی بحران کے پیش نظر ملک میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملکی اداروں کے مابین پیدا ہونے والا تناؤ موجودہ سیاسی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سیاسی اور آئینی بحران سے گزر رہا ہے جس نے ملک کے تمام اہم ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران جس طرح کے سیاسی بیانات اور عدالتی فیصلوں کے بعد صورتحال نے پلٹا کھایا ہے، اس نے عام شہریوں سمیت سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک کے موجودہ سیاسی نظام کے اندر دراڑیں صاف دکھائی دے رہی ہیں اور یہ سوال ہر زبان پر ہے کہ کیا موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری کر پائے گی یا اسے کسی غیر متوقع تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غیر ملکی میڈیا اور تھنک ٹینکس بھی پاکستان کی اندرونی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے ایک خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ملکی اداروں بالخصوص اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی داخلی بے چینی اور معاشی بدحالی نے نظام کی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔ عمران خان اور دیگر اپوزیشن عناصر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ایک بار پھر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستان کے داخلی مسائل صرف معاشی نہیں ہیں بلکہ ان کی جڑیں آئینی اور سیاسی بے یقینی میں پیوست ہیں۔ یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ کیا پاکستان میں ایک اور سیاسی تبدیلی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے یا یہ موجودہ حکومت اپنی حکمت عملی سے اسے سنبھالنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ دوسری جانب حکومتی حلقے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے خلاف ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتیں مسلسل یہ موقف اختیار کر رہی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، جس کے باعث حکومت پر عوام کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ آنے والے کچھ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، کیونکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے یا ملک ایک بار پھر کسی بڑے سیاسی سرپرائز کی طرف بڑھ رہا ہے۔