Politics
محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم کو خط، نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کا عمل فوری شروع کیا جائے۔ انہوں نے اس عمل کو شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم پاکستان کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دیگر اراکین کی تعیناتی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔ اچکزئی کا موقف ہے کہ موجودہ سیاسی اور انتخابی منظر نامے میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ عمل نہ صرف آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے بلکہ اس میں شفافیت کو بھی مکمل طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خط میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کی نمائندگی پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں ان صوبوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تقرری کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ عمل کو فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبائی نمائندگی کا توازن برقرار رکھنا وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے تاکہ انتخابی عمل پر تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ الیکشن کمیشن ایک اہم آئینی ادارہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مختلف سیاسی مبصرین اس مطالبے کو ملک میں جاری انتخابی اصلاحات کی بحث سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ اچکزئی کی جانب سے بارہا یہ معاملہ اٹھانا ظاہر کرتا ہے کہ اپوزیشن اور دیگر سیاسی قوتیں انتخابی عمل کی شفافیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے تاحال اس مطالبے پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا حکومت جلد از جلد اس اہم آئینی عہدے پر تقرری کا عمل مکمل کر پائے گی یا اس معاملے پر مزید سیاسی جوڑ توڑ دیکھنے میں آئے گی۔ آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ایک متفقہ عمل کے تحت ہوتی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم اس معاملے پر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کا آغاز کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کے سیاسی تعطل سے بچا جا سکے۔ محمود خان اچکزئی کا یہ اقدام ملک میں سیاسی استحکام کی کوششوں کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ آنے والے انتخابات بلا تعطل اور شفاف انداز میں منعقد ہو سکیں۔