LIVE
Loading Breaking News...

اسٹیٹ بینک کی مہنگائی کے حوالے سے نئی وارننگ: ملکی معیشت پر اثرات

News Image
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق عالمی اور مقامی معاشی دباؤ مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتوں میں اضافے کا ایک نیا اور خطرناک طوفان آ سکتا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور تجزیوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جس رفتار سے اوپر جا رہی ہیں، وہ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سپلائی چین میں رکاوٹوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ مرکزی بینک کا مزید کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملکی پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کے ذریعے افراط زر کو کنٹرول کرنے کی کوششیں اپنی جگہ، لیکن جب تک حکومت مالیاتی نظم و ضبط اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر توجہ مرکوز نہیں کرتی، تب تک مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا ایک چیلنج رہے گا۔ خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نچلے اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے معاشی ماہرین اور حکومتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں کے اس طوفان کو روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی وضع کریں۔ اس میں مارکیٹ کی سخت نگرانی، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور مقامی پیداوار میں اضافے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔ مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ اگر برآمدات میں اضافہ اور درآمدی بل میں کمی لائی جائے تو ملکی کرنسی کو استحکام ملے گا، جس کا بالواسطہ اثر قیمتوں میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ آخر میں، اسٹیٹ بینک کی یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو آئی ایم ایف کے پروگرام اور سخت معاشی شرائط کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت نے مرکزی بینک کی ان تجاویز پر عمل درآمد نہ کیا اور اصلاحاتی ایجنڈے کو سست روی کا شکار رکھا، تو مہنگائی کی شرح مزید بلند ہو سکتی ہے جس سے معاشی ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔ عوام کی جانب سے بھی حکومتی اقدامات پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔