LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوجی ذخائر میں کمی اور دفاعی اخراجات پر بحث

News Image
امریکی دفاعی ذخائر میں کمی کے انکشافات نے گزشتہ کئی برسوں کے اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو ملکی سلامتی اور ہتھیاروں کی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ میں جاری حالیہ مباحث نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر امریکی فوج کے پاس اسلحہ ختم ہو رہا ہے تو گزشتہ دہائیوں میں خرچ کیا جانے والا کھربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ کہاں گیا؟ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دنیا بھر میں جاری تنازعات اور بالخصوص ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکی اسلحہ کے ذخائر میں نمایاں کمی کے انکشافات کیے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری مداخلتوں نے امریکی عسکری گوداموں کو خالی کر دیا ہے، جس کے بعد پینٹاگون کے لیے اپنی سپلائی چین کو بحال کرنا ایک مشکل امتحان بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی حکومت نے دفاع کے نام پر جو بھاری رقوم مختص کی تھیں، ان کا ایک بڑا حصہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہوا، لیکن جنگی میدان میں فوری طور پر درکار روایتی اسلحے اور گولہ بارود کی پیداوار میں وہ رفتار حاصل نہیں کی جا سکی جو موجودہ عالمی حالات کا تقاضا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف امریکی کانگریس کے اندر بلکہ عوامی حلقوں میں بھی اس بجٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پیسہ درست جگہ استعمال ہوا یا پھر پیچیدہ عسکری صنعتی نیٹ ورک نے اس دولت کو اپنی نذر کر لیا، جبکہ اصل جنگی صلاحیتوں میں بہتری نہ آ سکی۔ مزید برآں، ہتھیاروں کی اس قلت نے امریکہ کی عالمی عسکری پوزیشن کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ کئی دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے اپنی پیداواری صلاحیت کو فوری طور پر بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں کسی بڑے تنازعہ کی صورت میں اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بحران صرف ایک تکنیکی یا لاجسٹک مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں بائیڈن انتظامیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا دفاعی نظام اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آخر میں، یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ ہتھیاروں کی تیاری کی موجودہ رفتار اور اخراجات کا حجم آپس میں مطابقت نہیں رکھتے، جو کہ امریکی دفاعی پالیسی کی ایک بڑی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں کانگریس میں ہونے والی بحثیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا امریکہ اس اسلحہ سازی کے بحران سے نکلنے کے لیے مزید فنڈز مختص کرے گا یا پھر اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائے گا تاکہ وسائل پر بوجھ کم کیا جا سکے۔