LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا کا گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کرنے کا فیصلہ

News Image
کولمبیا کی دائیں بازو کی حکومت نے متنازع اور غیر قانونی طور پر الحاق شدہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی جنوبی امریکہ کا یہ ملک اسرائیل کی اس موقف کی تائید کرنے والا دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے۔
لا پاز: جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا کی دائیں بازو کی حکومت نے ایک اہم اور متنازع سفارتی فیصلے کے تحت گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے دعوے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد کولمبیا دنیا کا دوسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اس غیر قانونی طور پر الحاق شدہ شامی علاقے پر صیہونی ریاست کی خودمختاری کی حمایت کی ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس فیصلے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گولان کی پہاڑیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت شام کا حصہ مانا جاتا ہے، اور اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جسے بعد میں یکطرفہ طور پر اپنے ساتھ ضم کر لیا گیا۔ اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی برادری اس الحاق کو غیر قانونی قرار دیتی ہے اور سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس علاقے کی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ اس کے باوجود چند ممالک کی جانب سے اسرائیل کے حق میں اٹھنے والی آوازیں عالمی سطح پر تنازعات کا باعث بنتی رہی ہیں۔ کولمبیا کے اس حالیہ موقف پر بین الاقوامی سطح پر ملی جلی ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور خطے کے دیگر ممالک اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کر سکتے ہیں، کیونکہ اس سے خطے کے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے کولمبیا کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے کولمبیا کی اندرونی سیاست میں بھی گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے جہاں حکومت کے اس غیر متوقع سفارتی اقدام پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت ردعمل کا خدشہ ہے۔