LIVE
Loading Breaking News...

ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی: صدر زرداری نے سمری پر دستخط کر دیے

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کئی روز کی تاخیر کے بعد ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی اور کنفرمیشن کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تقرریاں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کئی روز کے تعطل کے بعد ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تعیناتی اور ان کی تصدیق کی منظوری دے دی ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے ایک باضابطہ بیان کے مطابق صدر زرداری نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ صدر نے لاہور اور سندھ ہائی کورٹ کے چند ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے طور پر تعینات کرنے کی بھی توثیق کر دی ہے۔ یہ منظوری آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عمل میں لائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تقرریاں اور کنفرمیشن کا عمل 20 اور 21 جولائی سے التواء کا شکار تھا، جب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے ان ناموں کی سفارش کی تھی۔ جوڈیشل کمیشن اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔ کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے چار اضافی ججوں کی مستقل تعیناتی، سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو چھ ماہ کی توسیع دینے اور لاہور، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس میں 19 نئے اضافی ججوں کی تعیناتی کی سفارش کی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 175-A کی شق 8 کے تحت یہ تمام سفارشات وزیر اعظم کے توسط سے صدر مملکت کو ارسال کی گئی تھیں۔ تاہم، یہ سمری طویل عرصے تک ایوانِ صدر میں زیر التواء رہی جس کے باعث عدالتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی تھی۔ ماہرین قانون کے مطابق، ججوں کی تقرری میں تاخیر سے نہ صرف ہائی کورٹس میں مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا تھا بلکہ عدالتی نظام کے معمول کے امور بھی شدید متاثر ہو رہے تھے۔ ایوانِ صدر کی جانب سے دستخط کے بعد اب ان ججوں کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس سے ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیاں پُر ہوں گی اور عدالتی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔ توقع ہے کہ اس پیش رفت کے بعد زیر التواء مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے گی، جو کہ عام سائلین کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہوگی۔