LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان ہاؤسنگ فنڈز کی منتقلی پر ورلڈ بینک کی تنبیہ

News Image
ورلڈ بینک نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ہاؤسنگ پروگرام کے فنڈز کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں منتقل کرنے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے غریب خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور سماجی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: عالمی بینک نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے مختص اربوں روپے کے ریزیلینٹ ہاؤسنگ پروگرام کے فنڈز کو انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بلورما امگابزار نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ارسال کردہ ایک تفصیلی خط میں خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں غربت مزید گہری ہوگی اور عوامی سطح پر حکومتی اداروں پر اعتماد کو شدید دھچکا لگے گا۔ عالمی بینک کے مطابق اس منصوبے کے لیے اہل قرار دیے گئے 84 فیصد مستحقین انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد دیہاڑی دار مزدوروں، چھوٹے کسانوں اور کرایہ داروں پر مشتمل ہے۔ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ ہاؤسنگ سپورٹ کو محدود کرنے اور فنڈز کی منتقلی کے نتیجے میں 1 لاکھ 19 ہزار سے زائد تصدیق شدہ اور اہل خاندان مالی معاونت سے محروم ہو جائیں گے۔ بینک کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں کے پاس پہلے ہی بچت نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ رسمی قرضوں تک رسائی بھی نہیں رکھتے۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ متاثرین اپنی آمدنی کا بڑا حصہ عارضی چھت کی مرمت پر خرچ کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے ان کی خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات بری طرح متاثر ہوں گی۔ یہ صورتحال نہ صرف انہیں مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا دے گی بلکہ ان کی بحالی کے عمل کو بھی سبوتاژ کرے گی۔ خط میں عالمی بینک نے اس عمل کے دوران شفافیت کے فقدان اور شکایات کے حل کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ بینک کے مطابق 66 ہزار سے زائد شکایات درج ہو چکی ہیں جن کا تسلی بخش جواب دینا ضروری ہے۔ عالمی بینک نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر متاثرہ خاندان سے انفرادی رابطہ کیا جائے اور انہیں فیصلے کے بارے میں باضابطہ مطلع کیا جائے۔ غیر شفاف طریقے سے فنڈز کی کٹوتی یا منتقلی سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہوگی، کیونکہ یہ خاندان سیلاب، زلزلوں اور گرمی کی لہروں جیسے قدرتی آفات کے لیے پہلے ہی غیر محفوظ ڈھانچوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ آخر میں، عالمی بینک نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان مستحق خاندانوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ اقدام سماجی کشیدگی اور عدم مساوات کے احساس کو جنم دے سکتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اس طرح کی تبدیلیوں سے عوام کا حکومتی اور ترقیاتی پروگراموں پر اعتماد مجروح ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ ماضی کے دیگر تعمیر نو کے منصوبوں میں بھی کیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لے تاکہ طویل مدتی بحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد مل سکے۔