Pakistan
کسان اتحاد کا حکومت کے خلاف احتجاج، پنجاب میں زرعی بحران پر تشویش
پاکستان کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں کے خلاف 25 ستمبر سے راولپنڈی کی جانب 'ملین مارچ' شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری نہ ہونے اور مہنگائی کے باعث کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد (PKI) نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ کسان رہنماؤں میاں عمیر مسعود اور خالد حسین بھٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 25 ستمبر سے راولپنڈی کی جانب 'ملین مارچ' کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی مخالفت مسلم لیگ ن کی جماعت سے نہیں بلکہ موجودہ انتظامیہ کی ناقص زرعی پالیسیوں سے ہے، جس کے باعث ملک کا زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
کسان قیادت نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری نہ ہونے کے باعث کسانوں کو 2200 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے 3.5 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کو کسان دشمن قرار دیا جس نے مقامی فصل کی قیمت کو گرا دیا۔ اس کے علاوہ آلو اور کپاس کے کاشتکار بھی شدید بحران کا شکار ہیں، جہاں کپاس کی پیداوار 60 من سے گر کر صرف 12 من فی ایکڑ رہ گئی ہے۔ زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے؛ ڈی اے پی کھاد کی قیمت 2400 سے بڑھ کر 16600 روپے اور یوریا 1200 سے 4600 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ٹیوب ویلوں کے بجلی کے نرخ 5 روپے سے 40 روپے فی یونٹ ہو چکے ہیں۔
خالد حسین بھٹ نے صوبائی بیوروکریسی اور حکومتی ترجمانوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کے 21.9 ملین ٹن گندم کی پیداوار کے دعوے بے بنیاد ہیں اور حقیقت میں پیداوار 15 ملین ٹن سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت رمضان شوگر ملز سمیت بڑی صنعتوں کے خلاف بقایا جات کی ادائیگی کے لیے کارروائی کرنے کی ہمت رکھتی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹے کسانوں کے گھروں پر پولیس چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ بڑے صنعتی گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر کسان اتحاد کے صدر میاں عمیر مسعود نے کہا کہ اب سول حکومت سے تمام تر امیدیں ختم ہو چکی ہیں، اس لیے کسان برادری اپنی بقا کے لیے اب براہ راست عسکری قیادت سے اپیل کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کسانوں کے مسائل کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، اور یہ احتجاجی مارچ کسانوں کے حقوق کی بازیابی تک جاری رہے گا۔