Business
پاکستان کی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ: جولائی کی رپورٹ جاری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی ہیں۔ یہ شرح گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جولائی میں موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.6 ارب ڈالر رہا، جو کہ گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں یہ حجم 3.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہانہ بنیادوں پر بھی ترسیلات میں 4.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جو حکومتی معاشی اہداف کے حصول کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 44 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجود وہاں سے موصول ہونے والی ترسیلات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق، بڑی تعداد میں پاکستانی روزگار کی تلاش میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا رخ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان خطوں سے ملنے والی رقوم میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں جن کا حجم 913.9 ملین ڈالر رہا، اس کے بعد متحدہ عرب امارات 737.3 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے، برطانیہ 555.5 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے، یورپی یونین کے ممالک 452 ملین ڈالر کے ساتھ چوتھے اور امریکہ 317.2 ملین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔
ترسیلاتِ زر میں اس اضافے کے باوجود ملکی معیشت کو تجارتی خسارے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر برآمدی آمدنی سے تو بہت زیادہ ہیں اور انہوں نے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے، تاہم ملکی تجارتی خسارہ اب بھی ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ رواں سال کا آغاز 3.5 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے ساتھ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور مقامی مارکیٹ میں سستی غیر ملکی مصنوعات کی بھرمار ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ترسیلاتِ زر حکومت کی مشکلات کو کم کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ اور سمگلنگ کی روک تھام ناگزیر ہے۔