LIVE
Loading Breaking News...

وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے: نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 منظور

News Image
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 اور پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے ہاؤسنگ منصوبوں میں عمودی تعمیرات اور توانائی کی بچت کے معیارات کو لازمی قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئی اہم قومی پالیسیوں اور فریم ورکس کی منظوری دی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران سب سے اہم فیصلہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری ہے، جس کا مقصد شہریوں کو پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ پالیسی قومی اور بین الاقوامی ماہرین کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور اس میں صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں کی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے اور زمین کے بہترین استعمال کے لیے عمودی تعمیرات (ورٹیکل کنسٹرکشن) کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ، نئی عمارتوں میں توانائی کی بچت کے کوڈز کا نفاذ لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تعمیرات ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے کفایت شعار ہوں۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کے 'اپنا گھر' اسکیم پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ بینکوں نے گھروں کی تعمیر یا خریداری کے خواہشمند افراد کے لیے 220 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں سے 32 ارب روپے سے زائد کی رقم درخواست دہندگان میں تقسیم بھی کی جا چکی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مزید اقدامات کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پیش کردہ 'پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026' (PISF 2026) کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ فریم ورک 'سی ای آر ٹی' (CERT) رولز 2023 کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد ملک میں سائبر سیکیورٹی کے ایک جامع اور متحد نظام کا قیام یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے مزید اہم فیصلے کرتے ہوئے پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981 کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کے نوٹس کو واپس لینے کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے انرجی پر کمیٹی برائے توانائی کے 28 جولائی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی، جس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم شامل ہیں تاکہ مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ ان تمام پالیسیوں پر عملدرآمد کو مقررہ وقت کے اندر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان فیصلوں کا براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔