LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد کی بدلتی ہوئی شکل: سی ڈی اے کی تعمیراتی پالیسیوں پر تنقید

News Image
اسلام آباد میں سی ڈی اے کی جانب سے نئے انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی تعمیر شہر کی قدرتی خوبصورتی اور ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی کے فقدان کے باعث شہری مسائل کے بجائے غیر ضروری تعمیراتی منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اسلام آباد، جسے کبھی ملک کا سرسبز اور پرسکون ترین شہر سمجھا جاتا تھا، اب آہستہ آہستہ کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سی ڈی اے کی جانب سے مارگلہ روڈ اور آٹھویں ایونیو کے سنگم پر ایک نئے انڈر پاس کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے، جس نے شہر کی تعمیراتی ترجیحات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ کا واحد مقصد گاڑیوں کی رفتار بڑھانا ہے، چاہے اس کے لیے شہر کے قدرتی حسن اور ماحول کو ہی کیوں نہ داؤ پر لگانا پڑے۔ ماضی میں بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ لاہور کی طرز پر اسلام آباد میں بھی فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا جال بچھایا جا رہا ہے، جسے 'محسن اسپیڈ' جیسی اصطلاحات کے ذریعے سراہا جاتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اس تعمیراتی بھاگ دوڑ میں سب سے افسوسناک پہلو ایف-9 پارک جیسے اہم مقامات کے گرد بڑھتی ہوئی تعمیرات ہیں۔ ایف-9 پارک اسلام آباد کا دل ہے، جسے دنیا کے مشہور نیویارک کے سینٹرل پارک سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، یہاں کے حکام نے نہ صرف پارک کے ارد گرد فلائی اوورز تعمیر کر کے اس کے دلکش مناظر کو مسدود کر دیا ہے بلکہ یہاں کی زمین کے استعمال کے حوالے سے بھی ایسے فیصلے کیے ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ناقابل تصور ہیں۔ سڑکوں کو کشادہ کرنے اور سگنل فری کوریڈورز بنانے کی ضد میں شہر کی انفرادیت کو ختم کیا جا رہا ہے، اور فیصل ایونیو جیسے اہم راستوں کو بھی اسی تعمیراتی لہر کی نذر کیا جا رہا ہے جو فیصل مسجد کی طرف جانے والے راستے کو ایک بے روح کنکریٹ کی پٹی میں بدل دے گی۔ مزید برآں، ان تعمیراتی منصوبوں کے معیار پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بارشوں کے دوران اکثر نو تعمیر شدہ سڑکوں اور انڈر پاسز کا حال خستہ ہو جاتا ہے، جو ناقص میٹریل اور ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں انڈر پاسز کے ڈیزائن میں غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، مگر ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کا فقدان ہے اور شہر کے معاملات ایسے بیوروکریٹس چلاتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا پڑتا۔ اگر شہر کے باسیوں کے پاس حقیقی نمائندگی ہوتی تو شاید وہ اپنے شہر کی خوبصورتی کو بچانے کے لیے آواز اٹھا سکتے تھے اور ان غیر ضروری منصوبوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ترقی کا مفہوم صرف سڑکیں اور پل بنانا نہیں ہے، بلکہ عوامی ضروریات کے مطابق پائیدار منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اسلام آباد کو لاہور بنانے کی کوشش میں اس کی وہ پہچان مٹائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے اسے ایک ماڈل شہر کہا جاتا تھا۔ اگر آج ہی ان تعمیراتی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی، تو مستقبل میں اسلام آباد اپنے سبزہ زاروں سے محروم ہو کر محض ایک اور ہجوم زدہ شہر بن کر رہ جائے گا۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ 'رفتار' کے بجائے 'معیار' اور 'ماحول' کو ترجیح دے تاکہ وفاقی دارالحکومت کا وقار برقرار رہ سکے۔