World
غزہ امن منصوبہ اور اسرائیل کا منفی رویہ: مکمل تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کو اسرائیلی قیادت نے مسترد کرتے ہوئے اپنی فوج کے انخلا سے انکار کر دیا ہے۔ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے باوجود اسرائیل کے اس رویے نے مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
غزہ میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شروع کی گئی کوششیں ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ اسرائیل کا ضدی رویہ ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا نہیں کریں گی۔ یہ بیان ان تمام توقعات کے منافی ہے جو اس امن منصوبے سے وابستہ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس نے گزشتہ ماہ ہی اپنے ہتھیار ایک فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، اور یہ طے پایا تھا کہ غیر مسلح کرنے کا عمل اور اسرائیلی انخلا ساتھ ساتھ ہوں گے، جسے صدر ٹرمپ نے ایک 'تاریخی پیش رفت' قرار دیا تھا۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت کو ان کے امریکی اتحادیوں کی خواہشات سے کوئی سروکار نہیں۔
اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے 'گول پوسٹس' تبدیل کرتا رہتا ہے۔ جب معاملہ اسرائیل کے من پسند نتائج کے مطابق نہ ہو تو وہ فوراً اپنے موقف سے پھر جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نکبہ سے لے کر اوسلو معاہدے تک، ہمیشہ عربوں سے ہی سمجھوتوں کی توقع رکھی گئی ہے، جبکہ اسرائیل کو مغربی حمایت کے سہارے ایک لاڈلے بچے کی طرح ہر جائز و ناجائز مطالبہ پورا کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ ٹرمپ کے امن منصوبے کو ٹھکرانا اسی منافقت کا تسلسل ہے۔ یہ بات اب عیاں ہو چکی ہے کہ اسرائیل غزہ اور لبنان، دونوں محاذوں پر امریکی امن کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی برقرار رہے۔
اسرائیلی قیادت کی جانب سے یہ عذر پیش کرنا کہ وہ داخلی انتخابات سے قبل فلسطینیوں کو کوئی رعایت نہیں دے سکتے، ایک کمزور اور غیر منطقی موقف ہے۔ غزہ میں امن اور انسانی بحران کے خاتمے کو اسرائیل کی اندرونی سیاست کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ اسرائیلی اشتعال انگیزی اور جبر نے ہی ماضی میں انتفاضہ کی بنیاد رکھی اور اکتوبر 2023 کے واقعات کو جنم دیا۔ جب تل ابیب فلسطینیوں کے لیے پرامن حل کے تمام دروازے بند کر دے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کر دے، تو اس کا منطقی نتیجہ صرف تشدد ہی نکل سکتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل تشدد کے ماحول میں ہی پھلتا پھولتا ہے اور اسے حقیقی امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب تک اسرائیل اپنی روش نہیں بدلتا اور غزہ امن منصوبے پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتا، اس خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔