Business
کینس ٹیکنالوجی کے حصص گر گئے، تجزیہ کاروں کی رائے اور مارکیٹ صورتحال
کینس ٹیکنالوجی کے حصص میں سہ ماہی نتائج کے بعد 8 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کمپنی کے خالص منافع میں سال بہ سال 24.4 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
بھارتی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سروسز فرم 'کینس ٹیکنالوجی' کے حصص کی قیمت میں منگل کے روز تقریباً 8 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ حصص میں یہ زبردست مندی کمپنی کی جانب سے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے کمزور مالیاتی نتائج کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ان کے خالص منافع میں 24.4 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کمپنی کا منافع کم ہو کر 56.4 کروڑ روپے تک محدود رہ گیا ہے۔ اس مایوس کن کارکردگی نے سرمایہ کاروں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے جس کا براہِ راست اثر کمپنی کے اسٹاک پر پڑا۔
تاہم، مالیاتی رپورٹ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کمپنی کی آمدنی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ کینس ٹیکنالوجی کی آمدنی (ریونیو) میں سال بہ سال 40.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ 946 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کا ایبٹڈا (EBITDA) بھی 29.5 فیصد کے اضافے کے ساتھ 147.5 کروڑ روپے رہا ہے۔ آمدنی اور آپریٹنگ منافع میں اضافے کے باوجود خالص منافع میں کمی کی بڑی وجہ کمپنی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور دیگر مالیاتی بوجھ بتائے جا رہے ہیں، جس نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس صورتحال پر معروف مالیاتی اداروں نومورا (Nomura) اور موتی لال اوسوال (Motilal Oswal) نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ کمپنی کا بزنس ماڈل اور آرڈر بک مضبوط نظر آتی ہے، لیکن موجودہ سہ ماہی کے مارجنز پر دباؤ نے مختصر مدت کے لیے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو کمپنی کے مستقبل کے آپریٹنگ مارجنز اور اخراجات پر قابو پانے کی صلاحیت پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، کینس ٹیکنالوجی کو اپنی منافع بخش شرح کو برقرار رکھنے کے لیے آنے والی سہ ماہیوں میں کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ اعتماد بحال ہو سکے۔