LIVE
Loading Breaking News...

بریسٹ کینسر کا نیا علاج، اکیسو کی جانب سے اہم کلینیکل ٹرائل کا آغاز

News Image
اکیسو انکارپوریشن نے بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے ایک نئی کلینیکل تحقیق کے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے پہلے مریض کو دوا دے دی ہے۔ یہ ٹرائل TROP2/Nectin-4 بائی سپیسفک اے ڈی سی اور Ivonescimab کے امتزاج کی افادیت کو جانچنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی اکیسو انکارپوریشن نے حال ہی میں کینسر کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اپنی جدید بائی سپیسفک اے ڈی سی دوا AK146D1 کے فیز II کلینیکل ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پہلے مریض کو دوا کی خوراک دے دی گئی ہے۔ یہ طبی تحقیق بریسٹ کینسر کے ان مریضوں پر مرکوز ہے جو روایتی علاج کے مقابل نئی اور زیادہ مؤثر تھراپی کی ضرورت رکھتے ہیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد TROP2 اور Nectin-4 پروٹینز کو نشانہ بنانے والی اس دوا کی کارکردگی اور حفاظت کو جانچنا ہے۔ اس کلینیکل ٹرائل (AK146D1-202) میں AK146D1 کو کمپنی کی ایک اور اہم دوا 'Ivonescimab' کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بائی سپیسفک اے ڈی سی ٹیکنالوجی اور امیونو تھراپی کا یہ امتزاج کینسر کے خلیات کے خلاف زیادہ طاقتور دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر کے علاج میں بائی سپیسفک اینٹی باڈیز کا استعمال ایک جدید رجحان ہے جو براہ راست رسولی کے خلیات کو نشانہ بناتا ہے، جس سے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے۔ اکیسو کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم ان کی IO2.0 اور ADC2.0 حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد کینسر کے پیچیدہ کیسز میں مریضوں کو بہتر نتائج فراہم کرنا ہے۔ کمپنی کے محققین کو امید ہے کہ یہ امتزاجی تھراپی نہ صرف کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوگی بلکہ مریضوں کی زندگی کے معیار اور دورانیے میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔ فیز II کے اس ٹرائل کے نتائج طبی دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے کیونکہ یہ بریسٹ کینسر کے علاج کے مستقبل کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، اس تحقیق کے ابتدائی مراحل پر کام جاری ہے اور طبی ماہرین کی ٹیم مریضوں کی صحت اور دوا کے اثرات کی گہرائی سے نگرانی کر رہی ہے۔ اگر یہ ٹرائل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اکیسو اسے بڑے پیمانے پر منظوری کے لیے ریگولیٹری اداروں کے پاس بھیجنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ پیش رفت کینسر کے علاج میں مصروف عالمی سطح کے سائنسدانوں اور مریضوں دونوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے، جو کینسر جیسی موذی بیماری کے خلاف لڑائی میں امید کی نئی کرن ثابت ہو رہی ہے۔