Technology
مصنوعی ذہانت اور روزگار: 32 فیصد ادارے ملازمتوں میں کٹوتی کے بجائے مہارتوں کو ترجیح دے رہے ہیں
انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (IFSC) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر کے تقریباً 32 فیصد ادارے مصنوعی ذہانت کو ملازمتوں کے خاتمے کے بجائے ملازمین کی دوبارہ تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ کاروباری دنیا اب ٹیکنالوجی کو انسانی وسائل کی بہتری کے لیے استعمال کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے پھیلاؤ سے ملازمتوں کے خطرے کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں ایک تازہ ترین رپورٹ نے ایک مثبت پہلو اجاگر کیا ہے۔ انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (IFSC) کی جانب سے جاری کردہ 'اے آئی سروے 2026' رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد اب مصنوعی ذہانت کو ملازمتوں میں کٹوتی کے بجائے افرادی قوت کی مہارتوں کو نکھارنے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 32 فیصد ادارے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا اصل اثر ملازمتوں کے خاتمے کی صورت میں نہیں بلکہ کام کی نوعیت میں تبدیلی اور ملازمین کی دوبارہ تربیت (Re-skilling) کی صورت میں سامنے آئے گا۔
اس رپورٹ کا بنیادی مقصد کارپوریٹ سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے انسانی وسائل پر اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس انضمام سے کاروباری دنیا میں کام کرنے کے طریقوں میں انقلاب آئے گا، تاہم یہ انقلاب ملازمین کو بے روزگار کرنے کے بجائے انہیں ایسی نئی مہارتیں سیکھنے پر مجبور کرے گا جو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ کمپنیاں اب اپنے ملازمین کو ایسی تربیت فراہم کرنے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس سے وہ اے آئی ٹولز کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکیں، بجائے اس کے کہ صرف افرادی قوت کو کم کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی ادارے اب طویل مدتی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں۔ جب کوئی کمپنی اے آئی کو اپناتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کو بھی اپ ڈیٹ کرے۔ اس عمل میں نہ صرف ملازمین کی استعداد کار بڑھتی ہے بلکہ کمپنی کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ 32 فیصد اداروں کا یہ مثبت نقطہ نظر اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیقی صلاحیت کا امتزاج ایک بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
آخر میں، یہ رپورٹ اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے ڈرنے کے بجائے اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جن اداروں نے وقت کے ساتھ اپنی ورک فورس کو ری اسکل (re-skill) کیا ہے، وہ مارکیٹ میں بہتر مسابقتی پوزیشن حاصل کر سکیں گے۔ آنے والے برسوں میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح دنیا بھر میں ملازمتوں کا منظرنامہ تبدیل ہوتا ہے، لیکن اس رپورٹ نے فی الحال ایک امید افزا تصویر پیش کی ہے جو کہ ورک فورس کی ترقی اور بہتری پر مرکوز ہے۔