LIVE
Loading Breaking News...

آفس ورک میں جنریشن زی کا روایتی قلم اور کاغذ کا استعمال

News Image
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں نوجوان نسل یعنی جنریشن زی دفتروں میں دوبارہ روایتی طریقوں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل آلات کے کثرت استعمال کے بعد اب پین اور پیپر کا استعمال ورک پلیس پر ایک نئی روایت بنتا جا رہا ہے۔
جدید دور میں جب دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ورک پلیس آٹومیشن پر خرچ کر رہی ہیں، وہیں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے۔ نئی نسل، جسے 'جنریشن زی' کہا جاتا ہے، نے دفتروں میں دوبارہ روایتی طریقے یعنی قلم اور کاغذ کے استعمال کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر ان نوجوان ملازمین میں مقبول ہو رہا ہے جو سارا دن کمپیوٹر اسکرینز اور ڈیجیٹل ٹولز کے سامنے گزارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل تھکن سے بچنے کے لیے نوجوان نسل اب دوبارہ کاغذ پر نوٹس لینے اور چیزوں کو ہاتھ سے لکھنے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ طویل وقت تک ڈیجیٹل اسکرین پر کام کرنے سے ملازمین کی ذہنی کارکردگی اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ جنریشن زی کے نوجوانوں کا ماننا ہے کہ جب وہ کسی اہم آئیڈیا یا میٹنگ کے نوٹس ہاتھ سے لکھتے ہیں، تو انہیں چیزیں بہتر طور پر یاد رہتی ہیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل آلات، جیسے کہ اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ، بلاشبہ کام کو تیز کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ مسلسل نوٹیفکیشنز کے باعث خلفشار کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ہاتھ سے لکھنا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو ایک لمحے کے لیے ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکال کر یکسوئی فراہم کرتا ہے۔ کارپوریٹ دنیا کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تبدیلی صرف ایک فیشن نہیں ہے بلکہ یہ کام کرنے کے انداز میں ایک گہرا نفسیاتی ارتقا ہے۔ نوجوان ملازمین اب 'ڈیجیٹل ڈیٹاکس' کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں اور وہ کام کے دوران کچھ وقت پرسکون طریقے سے گزارنا چاہتے ہیں۔ کمپنیوں کے دفاتر میں اب ڈائریوں اور نوٹ بکس کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے انتظامیہ بھی خوش آئند قرار دے رہی ہے کیونکہ اس سے ملازمین کی ذہنی صحت بہتر رہتی ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت مستقبل کے کاموں کا لازمی حصہ رہے گی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ جنریشن زی نے ٹیکنالوجی اور روایتی طریقوں کے درمیان ایک توازن تلاش کر لیا ہے۔ قلم اور کاغذ کا دوبارہ استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی بنیادی تخلیقی ضروریات کے لیے صرف مشینیں کافی نہیں ہیں، بلکہ انسانی ٹچ اور ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر اب بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں دفاتر کے اندر اس ہائبرڈ ماڈل کے مزید مقبول ہونے کے امکانات ہیں۔