World
امریکہ ایران جنگ اور نیتنیاہو کا دورہ واشنگٹن
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ پچھلے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو اہم ملاقاتوں کے لیے واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے ہیں۔
تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس تنازع اور جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں مسلسل ناکامی اور مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق تاحال انتہائی پیچیدہ بنے ہوئے ہیں۔ دونوںممالک کے درمیان جاری اس کشمکش نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور عالمی رہنما اس بحران کے پرامن حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو اہم ترین دورے پر واشنگٹن ڈی سی پہنچ چکے ہیں۔ ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد نومنتخب یا موجودہ امریکی قیادت بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی آئندہ کی حکمت عملی اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے ممکنہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔نیتنیاہو اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی ان ملاقاتوں کو خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے ان مذاکرات کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط عسکری اور سیاسی تعلقات کے پیش نظر، اس دورے کے بعد خطے میں پالیسیوں کے حوالے سے اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔