LIVE
Loading Breaking News...

ہیلتھ انک کیا ہے؟ عالمی ہیلتھ سیکٹر کے بڑے گھوٹالے کا انکشاف

News Image
ہیلتھ انک کی اصطلاح عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں قائم کارپوریٹ اجارہ داری اور مبینہ مالیاتی بدعنوانیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظام میں نجی ہسپتال، دوا ساز کمپنیاں اور جدید ٹیکنالوجی کے نام پر مہنگے علاج کے طریقوں کو ایک منظم گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ایک نئی اور تشویشناک اصطلاح 'ہیلتھ انک' (Health Inc) متعارف کرائی گئی ہے، جو درحقیقت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی صحت کی صنعتوں، ہسپتالوں، دوا ساز کمپنیوں اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کے درمیان قائم ایک ایسے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتی ہے جسے مبینہ طور پر ایک بڑا عالمی فراڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ شعبہ اب انسانی فلاح و بہبود کے بجائے صرف منافع کمانے والی ایک دیو ہیکل مشین میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں نجی ہسپتال اور بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام چلاتی ہیں جس میں مریض کا علاج نہیں بلکہ اس کی بیماری کو طویل المدتی سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کی سب سے خطرناک شکل 'سمارٹ پے لوڈز' اور روبوٹک گولیوں جیسی جدید ٹیکنالوجیز میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ جدید ایجادات بظاہر علاج میں انقلاب لانے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مہنگے طبی آلات اور پیچیدہ دوائیوں کے ذریعے مریضوں کو ایک نہ ختم ہونے والے مالی بوجھ تلے دبا دیتی ہیں۔ 'ہیلتھ انک' کے تحت نجی کلینکس اور بڑی دوا ساز کمپنیاں ایک ایسی سپلائی چین بن چکی ہیں جو غیر ضروری ٹیسٹوں، جدید ترین لیکن بے حد مہنگی ادویات کے استعمال پر زور دیتی ہیں تاکہ اپنے حصص کی قیمتوں اور کارپوریٹ منافع میں اضافہ کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ عالمی معیشت کا وہ حصہ ہے جہاں حکومتی ضوابط یا تو ناکام ہو چکے ہیں یا پھر وہ بھی اس کارپوریٹ گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں۔ عوامی اور نجی شعبے کے ہسپتالوں کا یہ مجموعی نظام جس طرح کام کر رہا ہے، اس سے عام آدمی کی پہنچ سے علاج بہت دور ہو چکا ہے۔ ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے خفیہ میکانزم اور بیماریوں کے علاج کے نام پر مریضوں کو ٹیکنالوجی کے جال میں پھنسانا 'ہیلتھ انک' کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ آخر میں، یہ صورتحال انسانیت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر صحت کا شعبہ صرف منافع خوری پر مبنی کارپوریٹ ہدف بن جائے گا، تو غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندہ رہنا اور علاج کروانا ایک ناممکن خواب بن جائے گا۔ عالمی سطح پر ہیلتھ انک کے اس مبینہ اسکینڈل کے خلاف آواز اٹھانے اور صحت کے نظام کو شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ علاج معالجہ دوبارہ ایک بنیادی انسانی حق بن سکے نہ کہ سرمایہ کاری کا کوئی نیا ذریعہ۔