LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر فیوژن توانائی: کیا یہ مستقبل کا سستا ترین ذریعہ بن سکتا ہے؟

News Image
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن توانائی کو تجارتی پیمانے پر کیسے سستا بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق مستقبل میں توانائی کے بحران کے حل اور صاف ستھری بجلی کی فراہمی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران سائنسدانوں نے کامیابی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن کا عمل طبعی اعتبار سے ممکن ہے اور یہ توانائی پیدا کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس توانائی کو تجارتی اور معاشی اعتبار سے بھی قابل عمل بنایا جا سکتا ہے؟ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے پروفیسر ڈینس وائٹ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق میں اسی نکتے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹرز کی تعمیر اور دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرکے اسے مارکیٹ میں مسابقتی بنایا جائے۔ محققین کے مطابق نیوکلیئر فیوژن کی ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے نہ صرف تکنیکی مہارت درکار ہے بلکہ معاشی ماڈلنگ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیق میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ اگر فیوژن پاور پلانٹس کا ڈیزائن چھوٹا اور زیادہ موثر ہو تو ان کی تعمیر پر آنے والی لاگت کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ مطالعہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی صنعت میں فیوژن کو شامل کرنے سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لڑائی میں ایک بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن سے حاصل ہونے والی توانائی نہ صرف لامحدود ہے بلکہ یہ موجودہ فوسل فیولز کے مقابلے میں انتہائی محفوظ بھی ہے۔ تاہم اس کے معاشی پہلوؤں پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کار اس ٹیکنالوجی کی طرف متوجہ ہوں۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسروں نے اپنے ڈیٹا میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پالیسی سازی اور حکومتی تعاون بھی اس عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آنے والے چند برسوں میں اگر ٹیکنالوجی میں بہتری اور لاگت میں کمی کے اہداف حاصل کر لیے گئے تو عالمی توانائی کا نقشہ مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بجلی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دے گی بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیوکلیئر فیوژن اب محض لیبارٹری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ایسی معاشی حقیقت بن کر ابھرے گا جو دنیا کی توانائی کی ضروریات کو صدیوں تک پورا کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ یہ پیشرفت عالمی توانائی کے شعبے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو سستی اور صاف توانائی کی جانب سفر کو تیز کرے گی۔