LIVE
Loading Breaking News...

حسن پائیکر اور ان کی والدہ کے درمیان چین پر اختلاف رائے

News Image
معروف ٹوئچ اسٹار حسن پائیکر کی والدہ سیف پائیکر نے چین کے حوالے سے اپنے بیٹے کے خیالات سے اختلاف کرتے ہوئے ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ چین کی حمایت کرنے والے مغربی بائیں بازو کے نظریات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
معروف آن لائن ٹوئچ اسٹار اور سوشلسٹ مبصر حسن پائیکر کی والدہ سیف پائیکر نے عوامی سطح پر چین کے حوالے سے اپنے بیٹے کے خیالات سے واضح اختلاف کیا ہے۔ رولنگ اسٹون میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حسن پائیکر، جو کہ مغربی بائیں بازو کی سیاست میں کافی متحرک ہیں، کئی معاملات میں چین کے سیاسی و معاشی نظام کی تعریف کرتے ہیں، تاہم ان کی والدہ کا نقطہ نظر اس سے یکسر مختلف اور زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ سیف پائیکر کا ماننا ہے کہ جو لوگ دور بیٹھ کر کمیونسٹ چین کی پالیسیوں کی اندھی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل وہاں کے عام شہریوں کی مشکلات اور حکومتی سختیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اپنا تجربہ اور تاریخ کا مطالعہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی مطلق العنان نظام کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔ سیف پائیکر نے اشارہ دیا کہ ان کا بیٹا جن نظریات کا پرچار کرتا ہے، وہ ان کے اپنے تجربات کے برعکس ہیں۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب حسن پائیکر کے سیاسی موقف پر مغربی میڈیا میں کافی بحث چھڑ گئی۔ حسن پائیکر اکثر اپنے لائیو شوز میں کیپیٹلزم کے خلاف بات کرتے ہیں اور کبھی کبھار چین کے ترقیاتی ماڈل کو بطور مثال پیش کرتے ہیں، جس پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کی والدہ کا بیان اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایک خاندانی اختلاف ہے بلکہ یہ مغربی بائیں بازو کے ان حلقوں کی سوچ کی عکاسی بھی ہے جو کمیونسٹ حکومتوں کے بارے میں کافی 'سافٹ کارنر' رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حسن پائیکر کی والدہ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہے جہاں نوجوان نسل اکثر نظریاتی کشمکش میں مبتلا رہتی ہے۔ سیف پائیکر کی جانب سے دیا گیا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ نظریاتی وابستگیوں کے باوجود، خاندانی سطح پر حقائق کی ایک الگ اور حقیقت پسندانہ تصویر موجود ہے۔ یہ معاملہ اب صرف ایک ٹوئچ اسٹار تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی معاشرے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس پر مختلف نسلوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو بھی اجاگر کرتا ہے۔