World
روسی شہر پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 13 افراد جاں بحق
یوکرین کی جانب سے روس کے اندر تیل صاف کرنے والے ایک اہم صنعتی شہر پر کیے گئے ڈرون حملے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یوکرین کی جانب سے روس کے اندر گہرائی میں واقع تیل صاف کرنے والے ایک اہم صنعتی شہر پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران روسی سرزمین پر ہونے والا یہ سب سے بڑا اور ہلاکت خیز حملہ ہے جس نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حملے کی زد میں آنے والے علاقے میں عمارات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاتارستان کے سربراہ کی پریس سروس کے مطابق ڈرون حملے کے بعد تقریبا پچہتر افراد نے طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جن میں سے اکیس افراد کو تشویشناک حالت میں مقامی اسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ حکام نے علاقے میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ متاثرہ عمارتوں اور تنصیبات میں پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
یوکرین کی جانب سے اس کارروائی کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ اس کا بنیادی ہدف روس کی تیل کی صنعت اور اس سے وابستہ تنصیبات کو نقصان پہنچانا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے اس طویل مرحلے میں یوکرین کی جانب سے روسی سرحد کے اندر اس نوعیت کے گہرے اور منظم حملے جنگ کے رخ کو تبدیل کرنے کی ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ روس کی جانب سے اس حملے کے شدید نتائج برآمد ہونے کی دھمکی دی گئی ہے جس سے خطے میں مزید بڑی عسکری کارروائیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور سرحدی دفاعی انتظامات مزید سخت کر دیے جائیں گے۔