World
لیبیا میں آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ اور آگ کے واقعات
لیبیا کی اہم ترین زاویہ آئل ریفائنری پر ایک ڈرون حملے کے بعد پٹرول کے ذخائر میں آگ لگ گئی۔ اس واقعے سے ملک کی تیل کی پیداواری صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
لیبیا کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ ملک کی سب سے بڑی فعال آئل ریفائنری 'زاویہ' پر ڈرون حملے کے نتیجے میں پٹرول کے ذخائر میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے۔ یہ ریفائنری لیبیا کی معیشت اور مقامی ضروریات کے لیے تیل کی فراہمی کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آور ڈرون نے براہ راست ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد آگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے اور ارد گرد کے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا، تاہم تیل کی تنصیبات ہونے کے باعث آگ کی شدت بہت زیادہ ہے۔ اس حملے نے لیبیا میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تیل کی یہ تنصیب نہ صرف ملک کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ مقامی بجلی اور پٹرول کی ضروریات پورا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ریفائنری کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو لیبیا میں ایندھن کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لیبیا پہلے ہی داخلی انتشار کا شکار ہے اور مختلف دھڑوں کے درمیان وسائل کے حصول کے لیے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے باضابطہ طور پر اس ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔
ملک کی تیل کی صنعت کو پہنچنے والا یہ نقصان لیبیا کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے حکومت کو سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ قومی اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور عوام کی بنیادی ضروریات میں خلل نہ آئے۔