Pakistan
مصطفیٰ عامر قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ کا ٹرائل میں تاخیر پر ایکشن
سندھ ہائی کورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ مقتول کی والدہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں مقدمے کی تیز تر سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) سے کیس کی کارروائی پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ مقدمے کی سماعت میں اب تک کتنی پیش رفت ہوئی ہے اور ٹرائل میں تاخیر کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ یہ کیس گزشتہ سال جنوری میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں 23 سالہ مصطفیٰ عامر کے اغوا اور بہیمانہ قتل کے حوالے سے ہے، جس میں مرکزی ملزم ارمغان اور اس کا ساتھی شیراز ملوث ہیں۔
مقتول کی والدہ وجیہہ عامر نے اپنے وکیل کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک کرمنل متفرق درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ جلد ہونا چاہیے، تاہم واقعہ کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں کارروائی کو التواء کا شکار کرنے کے لیے مسلسل ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے متاثرہ خاندان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔
عدالت کے روبرو پیش کیے گئے دلائل میں وکیل نے استدعا کی کہ عدالت عالیہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کرے کہ وہ اس مقدمے کو روزانہ کی بنیاد پر سنے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ ابتدائی سماعت کے بعد بنچ نے مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت سے کیس کی موجودہ صورتحال اور اب تک ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال فروری میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد گواہان کو طلب کیا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے اس اقدام سے لواحقین کو توقع ہے کہ مقدمے کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور ملزمان کو جلد سزا ملے گی۔