Politics
مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج اور نظریاتی ارتقاء
مودی حکومت کے خلاف حالیہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جو روایتی طور پر دائیں بازو کی سیاست کے حامی رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظریاتی تبدیلی اور سیاسی بیداری کسی خاندانی ورثے کی محتاج نہیں بلکہ یہ سماجی شعور کا نتیجہ ہے۔
بھارت میں موجودہ سیاسی منظرنامے پر ہونے والی حالیہ بحثوں میں ایک دلچسپ پہلو یہ ابھر کر سامنے آیا ہے کہ مودی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے بہت سے نوجوانوں کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جو برسوں سے بی جے پی اور دائیں بازو کی سیاست کے وفادار رہے ہیں۔ یہ امر تجزیہ کاروں کے لیے حیران کن ہے، مگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو نظریات کا ارتقاء ہمیشہ سے فطری رہا ہے۔ جس طرح عمر خالد جیسے بائیں بازو کے رہنماؤں نے مذہبی پس منظر سے نکل کر سیکولر سیاست کا راستہ اپنایا، اسی طرح نیہا بورا جیسی طالب علم رہنماؤں نے اپنے خاندانی روایات کو توڑ کر ایک مختلف سیاسی سوچ کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنے خاندانی سیاسی ورثے کا غلام نہیں ہوتا بلکہ وقت اور تجربات اسے نئے نظریات کی طرف لے جاتے ہیں۔
ماضی کے اوراق پلٹیں تو ہمیں فیض احمد فیض اور کیفی اعظمی جیسی شخصیات ملتی ہیں، جنہوں نے مذہبی پس منظر سے نکل کر عالمی سطح پر ترقی پسند ادب اور سیاست میں نام پیدا کیا۔ دیوی پرساد ترپاٹھی جیسے لوگ بھی آر ایس ایس کے گڑھ سے نکل کر کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظریاتی تبدیلی کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ بھارتی معاشرے میں جہاں ذات پات اور طبقاتی کشمکش موجود رہی ہے، وہاں نوجوانوں کا اپنی خاندانی وابستگیوں سے نکل کر حقوق کی بات کرنا دراصل ایک پختہ سیاسی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ احتجاج کرنے والے یہ نوجوان محض جذباتی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں جو انہیں روایتی سانچوں میں مقید رکھنا چاہتا ہے۔
اروند کیجریوال کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے ایک وقت میں مذہبی سیاست سے دوری اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد ازاں سیاسی مصلحتوں کے تحت وہ بھی اسی دھارے کا حصہ بن گئے۔ تاہم، کسانوں کے احتجاج اور حالیہ طلبہ تحریکوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر عوام اور نوجوان اپنے مطالبات پر ڈٹ جائیں تو طاقتور ترین حکومتیں بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ میڈیا کی جانب سے پروپیگنڈا اور پولیس کے جبر کے باوجود نوجوانوں کا ثابت قدم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سماجی حقیقت کے اس 'نقطہ عروج' تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ یہ نوجوان نہ صرف کارپوریٹ میڈیا کے غلط بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں بلکہ اپنی ووٹنگ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہیں۔
آخر میں، سیاسی ارتقاء کا یہ سفر ایک مستقل عمل ہے۔ جس طرح ایران میں مذہبی علامات کو ظلم کے خلاف استعمال کیا گیا، اسی طرح بھارت کے یہ نوجوان بھی اپنے نظریات کو ایک نئی سمت دے رہے ہیں۔ یہ نوجوان نسل نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ایسی سیاسی روایت کی بنیاد رکھ رہی ہے جو خوف اور جبر سے آزاد ہو۔ ان کا یہ سفر بتاتا ہے کہ تبدیلی کی ہواؤں کو زیادہ دیر تک روکا نہیں جا سکتا اور جب نوجوان کسی نظریے کو اپنا لیتے ہیں تو معاشرے میں گہری تبدیلیاں یقینی ہو جاتی ہیں۔