LIVE
Loading Breaking News...

صدر زرداری کا ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کا اہم فیصلہ

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے ججوں کے مراعات کو وفاقی آئینی عدالت کے ہم منصبوں کے برابر لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تعیناتی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے ملک بھر کی اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیاں پر کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ عدالتی نظام میں زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس فیصلے کا مقصد عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے درکار عدالتی افرادی قوت کو مکمل کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی صدر مملکت نے ہائی کورٹس کے متعدد ججوں کو مستقل کرنے کے عمل پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ یہ جج کافی عرصے سے ایڈہاک یا عارضی بنیادوں پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے، جنہیں اب ان کی کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر مستقل ججوں کے طور پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ہائی کورٹس میں کام کا دباؤ کم ہوگا اور عدالتی فیصلوں میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔ مزید برآں، حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے مراعات کو وفاقی آئینی عدالت کے ہم منصبوں کے برابر لانے کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک بل بھی منظور کیا گیا ہے جس کا مقصد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے درمیان سہولیات اور مراعات کے فرق کو ختم کرنا ہے۔ یہ اقدام جوڈیشل اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد عدالتی اداروں میں یکسانیت لانا ہے۔ ان فیصلوں کے علاوہ، وفاقی سطح پر دیگر تقرریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں ہارون اختر کو وزیر اعظم کا مشیر برائے صنعت و تجارت مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کی گئی ہے۔ صدر زرداری کے دستخط کے بعد ان تمام فیصلوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس پر متعلقہ ادارے فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں گے۔