World
برطانیہ میں ہائی اسٹریٹ کی بحالی کا منصوبہ: ویپ شاپس پر پابندی کی تیاری
مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے برطانیہ میں ہائی اسٹریٹس کی رونقیں بحال کرنے کیلئے ویپ شاپس اور بیٹنگ مراکز پر کڑی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مقامی معیشت کو بہتر بنانا اور نوجوانوں کو غیر صحت مند رجحانات سے دور رکھنا ہے۔
برطانیہ میں مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے ملک بھر کی ہائی اسٹریٹس کی بحالی اور انہیں دوبارہ پرکشش بنانے کیلئے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی نکتہ شہروں کے اہم کاروباری مراکز میں ویپ شاپس اور بیٹنگ مراکز (جوا خانوں) کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانا ہے۔ اینڈی برنہم کا ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں ان دکانوں کی کثرت نے مقامی مارکیٹس کے ماحول کو خراب کیا ہے، جس سے نہ صرف خاندانی کاروبار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ مقامی آبادی، خاص طور پر نوجوان نسل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کے تحت مقامی کونسلوں کو اب یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ نئی ویپ شاپس اور بیٹنگ سینٹرز کے قیام کیلئے سخت ترین ضابطہ اخلاق نافذ کریں۔ اس اقدام کا مقصد ہائی اسٹریٹ پر تنوع لانا ہے تاکہ وہاں ایسے کاروباروں کو جگہ مل سکے جو کمیونٹی کیلئے فائدہ مند ہوں، جیسا کہ مقامی کیفے، لائبریریاں اور ثقافتی مراکز۔ اینڈی برنہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہائی اسٹریٹس کو محض تجارتی گلیوں کے بجائے سماجی رابطوں کا مرکز بننا چاہیے، جس کیلئے ان مخصوص کاروباری مراکز کے لائسنس کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
اس پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم برطانیہ کی شہری منصوبہ بندی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ویپ شاپس اور بیٹنگ سیکٹر کے نمائندوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم برنہم کا موقف ہے کہ عوامی صحت اور معاشرتی اقدار کی حفاظت کے پیش نظر یہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ مقامی حکومتیں اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ کس طرح ان علاقوں میں نئے کاروباروں کو ٹیکس مراعات دی جائیں تاکہ ہائی اسٹریٹس کو دوبارہ اپنی پرانی رونقیں واپس مل سکیں اور وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
آخر میں، یہ منصوبہ صرف مقامی انتظامیہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے قومی سطح پر ایک ماڈل کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ برطانیہ کی مرکزی حکومت بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا مانچسٹر کی طرز پر دیگر شہروں میں بھی ویپ اور بیٹنگ مراکز کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان سخت ضوابط کے نفاذ کے بعد برطانیہ کی مصروف ترین گلیوں میں کاروباری تنوع اور صحت مند ماحول کے اثرات نمایاں نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔