Technology
مصنوعی ذہانت اور ملازمین کے اوقات کار: حقیقت کیا ہے؟
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی ذہانت کام کے بوجھ کو کم کرے گی، تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی طویل اوقات کار کے دباؤ کا شکار ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کی آمد کے باوجود کام کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے لیکن اوقات کار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے سربراہان کا مسلسل یہ دعویٰ رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرے گی، جس کے نتیجے میں لوگوں کو کم کام کرنا پڑے گا اور انہیں اپنی ذاتی زندگی کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔ ان کمپنیوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے خودکار نظام کام کی رفتار کو بڑھا دیں گے جس سے انسانی مشقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم، زمینی حقائق ان خوش کن دعووں سے کافی مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، ان ٹیکنالوجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی آمد نے ان کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بہت سے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی ہفتے میں 90 گھنٹے تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ طویل اوقات کار ذہنی اور جسمانی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں، جس سے 'ورک لائف بیلنس' کا تصور دھندلا پڑ گیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI ٹولز بہت سے کام خود بخود انجام دیتے ہیں، لیکن اس ٹیکنالوجی کو چلانے، مانیٹر کرنے اور اس کے نتائج کو درست کرنے کے لیے انسانی نگرانی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تنصیب کے بعد کام کے طریقے تو بدل گئے ہیں، لیکن کمپنیوں کی جانب سے اہداف (targets) کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ جب مشینیں کام کی رفتار کو تیز کر دیتی ہیں، تو انتظامیہ ملازمین سے بھی اسی رفتار کی توقع رکھتی ہے، جس کی وجہ سے کام کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں کارکنوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ تکنیکی ترقی کا اصل فائدہ ملازمین کو ملنا چاہیے تھا، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
آخر میں، یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی اور انسانی مزدوری کے درمیان توازن قائم کرنا ابھی ایک چیلنج ہے۔ جب تک کمپنیاں انسانی بہبود کو منافع اور رفتار سے اوپر نہیں رکھیں گی، تب تک مصنوعی ذہانت کے فوائد عام ملازمین تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوگی اور ملازمین کے کام چھوڑنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا کمپنیاں اپنے پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لاتی ہیں یا نہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت واقعی انسانیت کے لیے سہولت کا باعث بن سکے۔