World
موسمیاتی تبدیلی اور سپر ایل نینو: برطانیہ کے لیے وارننگ
برطانوی رکن پارلیمنٹ کرس ہنچلف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور سپر ایل نینو کی ممکنہ آمد کے لیے ہنگامی تیاری کرے۔ یہ موسمیاتی عمل دنیا بھر میں غذائی اجناس کی فراہمی اور عالمی معیشتوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے رکن کرس ہنچلف نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کو 'سپر ایل نینو' (Super El Niño) جیسے موسمیاتی واقعات کے لیے فوری طور پر تیار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسمیاتی رجحان نہ صرف عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میں غذائی اجناس کی فراہمی اور معاشی استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کرس ہنچلف کا ماننا ہے کہ حکومت کو اس موسمیاتی چیلنج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پیشگی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس کے دوران بحر الکاہل کے پانیوں کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کے موسم پر پڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، 'سپر ایل نینو' اس عمل کی شدید ترین شکل ہے جو خشک سالی، سیلاب اور فصلوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ کرس ہنچلف نے زور دیا کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو اپنی غذائی خود مختاری اور درآمدی زنجیروں (supply chains) کی حفاظت کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کے پیش نظر، حکومتی سطح پر مربوط پالیسی کا ہونا ناگزیر ہے۔
رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جس کا اثر ہر ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو محدود کیا جا سکے۔ برطانیہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے قدرتی آفات کے دوران خوراک کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس مطالبے پر غور کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی ایکشن پلان تیار کیا جا سکے۔