World
ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پی کے کے جنگجوؤں کے لیے تاریخی بل منظور
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ امن قائم کرنے اور انہیں معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے قومی یکجہتی بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی قدم کا مقصد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہے۔
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قانون سازی کرتے ہوئے ہزاروں پی کے کے (PKK) جنگجوؤں کے لیے معافی نما بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں پائیدار امن قائم کرنا اور طویل عرصے سے جاری کرد تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کو 'دہشت گردی سے پاک ترکیہ' کے بڑے سرکاری وژن کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عسکریت پسندوں کو تشدد کا راستہ چھوڑ کر سیاسی عمل کا حصہ بنانا ہے۔ ترکیہ کے قانون سازوں نے اس فریم ورک کو خطے میں طویل المدتی استحکام کی جانب ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بل کرد مسئلے کو عسکری محاذ سے نکال کر سیاسی ڈائیلاگ اور جمہوری دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس قانون کے ذریعے نہ صرف عسکریت پسندی کی جڑیں کمزور ہوں گی بلکہ ریاست اور تمام شہریوں کے درمیان اعتماد کی فضا بھی بحال ہوگی۔ اس قانون کے نفاذ سے ان جنگجوؤں کی معاشرے میں بحالی کا عمل شروع ہو گا جن کے ہاتھ سنگین جرائم میں نہیں رنگے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور اسے ترکیہ کی داخلی سیاست اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانون کے تحت عمل درآمد کے طریقہ کار کو مزید واضح کیا جائے گا جس پر بین الاقوامی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔