LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا عدالتی تعیناتیوں میں تاخیر پر حکومت کو نوٹس

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو عدالتی تعیناتیوں کے عمل میں تاخیر پر وضاحت طلب کرتے ہوئے وزیر اعظم کی ایڈوائس زیر التوا رکھنے کے نتائج پوچھ لیے ہیں۔ عدالت نے اس آئینی اور قانونی پیچیدگی پر حکومت سے جواب مانگا ہے کہ تعیناتیوں کے عمل کو التوا میں کیوں رکھا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی تعیناتیوں کے اہم عمل میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے استفسار کیا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس یا سمری کو زیر التوا رکھنے کے کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں اور اس تاخیر کے پیچھے کون سے آئینی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی کا عمل طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہا، جس پر عدالت نے خود نوٹس لیتے ہوئے شفافیت اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب ایوانِ صدر نے اپنے موقف میں یہ واضح کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی جانب سے کی جانے والی سفارشات پر ازخود دستخط کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ ان کے لیے آئینی مشاورت کا عمل ناگزیر ہے۔ ایوانِ صدر کے مطابق آئین کے تحت صدر مملکت کو سفارشات پر غور کرنے کا اختیار حاصل ہے اور یہ کوئی خودکار عمل نہیں ہے۔ اسی دوران صدر آصف علی زرداری نے بالاخر ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، تاہم یہ منظوری کئی دنوں کے طویل انتظار کے بعد عمل میں آئی جس پر عوامی اور عدالتی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے تھے۔ اس صورتحال کے تناظر میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے بھی ججز کی نامزدگیوں کے قواعد کو مزید سخت اور شفاف بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تعطل سے بچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور نظامِ انصاف کی فعالیت کے لیے ججز کی بروقت تعیناتی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا انتظامی تاخیر عدالتوں کے کام کو متاثر کر سکتی ہے۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اس تاخیر کی ٹھوس وجوہات بیان کرے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اس عمل میں آئینی تقاضوں کو نظر انداز تو نہیں کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد اب وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے جواب میں واضح کرے کہ آیا یہ تاخیر انتظامی سستی تھی یا اس کے پیچھے کوئی تکنیکی رکاوٹیں حائل تھیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ اقدام عدلیہ اور حکومت کے درمیان عدالتی تقرریوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے اور آئینی عمل کو پٹری پر لانے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب قوم کی نظریں اگلی سماعت پر مرکوز ہیں کہ حکومت اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔