LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثیوں کے میزائل حملے، الموخا اور مآرب میں جانی نقصان

News Image
یمنی حوثی باغیوں نے ملک کے اہم علاقوں الموخا اور مآرب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 سے 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یمن میں ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب حوثی باغیوں کی جانب سے ملک کے حکومتی کنٹرول والے علاقوں الموخا اور مآرب پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم 11 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، حوثیوں نے ان حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون کا بھرپور استعمال کیا جس سے شہری انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ مآرب کا علاقہ جو کہ تیل کے ذخائر سے مالا مال ہے، طویل عرصے سے حوثیوں کے نشانے پر ہے، جہاں آئے روز جھڑپوں اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں نے یمن میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ الموخا اور مآرب میں ہونے والی اس تازہ کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، تاہم عام شہریوں کے لیے صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے یہ حملے سعودی عرب میں موجود ریفائنریز کو بھی نشانہ بنانے کی ایک کڑی ہو سکتے ہیں، جس سے خطے کی توانائی کی سپلائی لائنوں پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری نے یمن میں جاری ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ ادھر، سوشل میڈیا اور مختلف ویڈیوز میں الموخا کے ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بننے کے مناظر بھی گردش کر رہے ہیں، جس سے حملوں کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے ان علاقوں کو ہدف بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کسی منطقی انجام تک پہنچنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ یمنی حکومت نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے جاری ان حملوں کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ فی الحال ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی تنظیمیں یمن میں صورتحال کے بگڑنے پر گہری تشویش کا شکار ہیں۔