LIVE
Loading Breaking News...

صدر زرداری نے ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرریوں کی منظوری دے دی

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک بھر کی پانچ ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تعیناتی اور مستقلی کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ہی عدالتی تعیناتیوں کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری سیاسی اور آئینی تعطل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے منگل کے روز ملک کی پانچ ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تعیناتیوں کے ساتھ ساتھ بعض ججوں کی بطور مستقل جج تقرری کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری عدالتی تعیناتیوں کا تنازعہ حل ہو گیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔ اس فیصلے سے نہ صرف ہائی کورٹس میں خالی آسامیاں پُر ہوں گی بلکہ عدالتی امور کی انجام دہی میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔ یہ سمری وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ارسال کی گئی تھی جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی سفارشات پر مبنی تھی۔ واضح رہے کہ یہ تقرریاں اور توثیق 20 اور 21 جولائی سے التواء کا شکار تھیں، جب جوڈیشل کمیشن نے ان ناموں کی سفارش کی تھی۔ اس تعطل کی وجہ سے عدالتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے، جس کے باعث پشاور ہائی کورٹ کے چار اضافی ججوں کی مدت ملازمت 4 اگست کو ختم ہونے کے بعد وہ اپنے عہدوں سے دستبردار ہو گئے تھے، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کا ایک اضافی جج بھی مدت پوری ہونے پر فارغ ہو گیا تھا۔ ایوان صدر اور حکومت کے درمیان قانونی ماہرین کی رائے مختلف تھی، جس کی وجہ سے معاملہ طویل عرصہ تک زیر التواء رہا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق، صدر مملکت نے ان تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آئینی ذمہ داریوں کے تحت منظوری دی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے علاوہ صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے ججوں کے مساوی کرنے کی بھی منظوری دی۔ مزید برآں، ہائی کورٹ کے ججوں کی چھٹیوں، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم نامے میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں، صدر زرداری نے ہارون اختر خان کو وزیر اعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار تعینات کرنے کی سمری پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تمام اقدامات حکومتی اور عدالتی حلقوں میں خوش آئند قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ اس سے عدلیہ کے انتظامی اور قانونی معاملات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔