LIVE
Loading Breaking News...

ساہیوال: زمین کا قبضہ لینے پر خاتون پر بہیمانہ تشدد اور اغوا

News Image
ساہیوال میں 30 سال بعد اپنی وراثتی زمین کا قبضہ حاصل کرنے والی خاتون کو مسلح افراد نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کر لیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بازیاب کروا کر 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ساہیوال کے چک 93/9-L میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون مردان بی بی کو اپنی وراثتی زمین کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی پاداش میں مسلح ملزمان کی جانب سے اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مردان بی بی کو یہ زمین گوری پال اسکیم کے تحت وراثت میں ملی تھی، جس پر گزشتہ 30 سالوں سے خدا یار بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا تھا۔ ضلعی انتظامیہ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور پیرا فورس کی مدد سے طویل جدوجہد کے بعد حال ہی میں اس زمین کا قبضہ اصل مالکان کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاہم، سرکاری ٹیم کے علاقے سے نکلتے ہی ملزمان نے دوبارہ دھاوا بول دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، 12 مسلح افراد بشمول تین خواتین نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر خاتون کے گھر پر حملہ کیا۔ ملزمان نے خاتون کو بالوں سے گھسیٹ کر زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ان کا چہرہ ڈھانپ کر اغوا کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران جب خاتون کے کزن اکرم نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ملزمان نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن خوش قسمتی سے مقامی افراد نے فوری طور پر 15 ہیلپ لائن پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد یوسف والا پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس کے پہنچنے پر ملزمان خاتون کو چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 6 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 50، 148، 149، 447، 511، 365 اور 354 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ساہیوال کے کمشنر آصف طفیل کے احکامات پر اس آپریشن کو یقینی بنایا گیا تھا، اور اب حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ساہیوال میں زمینوں پر قبضے مافیا کے کردار اور خواتین کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جائے بلکہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی قانونی طور پر حاصل کردہ زمین پر سکون سے رہ سکیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور زمین کے اصل مالکان کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔