Pakistan
آزاد کشمیر انتخابات: پی پی پی اور ن لیگ میں سخت مقابلہ جاری
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جہاں پیپلز پارٹی دو جبکہ مسلم لیگ ن ایک حلقے میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے تیسرے مرحلے کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے دو حلقوں میں اپنی برتری قائم کر لی ہے جبکہ مسلم لیگ ن ایک حلقے میں سبقت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پونچھ ڈویژن کے چار مختلف حلقوں میں ووٹ ڈالنے کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا، جس کے بعد پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں میں شدید جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور حلقوں کے باہر ووٹرز کی بڑی تعداد جمع ہے۔
انتخابی عمل کے دوران انتظامیہ نے سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں پولنگ کے عمل کو کسی تکنیکی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا، جس سے امیدواروں اور عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ کی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ان رکاوٹوں کے باوجود جن حلقوں میں پولنگ مکمل ہوئی وہاں ٹرن آؤٹ خاصا بہتر رہا ہے، جو جمہوری عمل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
دریں اثنا، حلقہ ایل اے-17 باغ-4 میں انتخابی نتائج پر تنازعہ بھی سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے گنتی کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ری کاؤنٹنگ (دوبارہ گنتی) کی باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔ امیدوار کا کہنا ہے کہ گنتی کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور نتائج میں مبینہ ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے اس درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو دور کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر یہ انتخابی مرحلہ آزاد کشمیر کی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان نتائج سے آنے والے دنوں میں حکومت سازی اور سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور آخری نتائج تک کسی بھی پارٹی کی واضح اکثریت کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہو گا۔ انتظامیہ کی جانب سے امیدواروں کو پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔