LIVE
Loading Breaking News...

خبیب نورماگومیدوف اور فلسطین: مسلمان فائٹرز کے معاہدے منسوخ

News Image
مشہور ایم ایم اے فائٹر خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کی وجہ سے انہیں اور دیگر کئی مسلمان فائٹرز کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خبیب کے مطابق اس موقف کے نتیجے میں انہیں اپنے کیریئر کے دوران کئی تجارتی معاہدوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
مخلوط مارشل آرٹس (MMA) کی دنیا کے لیجنڈ اور سابقہ یو ایف سی (UFC) چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے ایک اہم انکشاف کیا ہے جس نے کھیلوں کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ خبیب نے ایک انٹرویو کے دوران یہ بات واضح کی کہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ان اور دیگر کئی مسلمان فائٹرز کے لیے پیشہ ورانہ مشکلات کا باعث بنا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کھل کر فلسطین کی حمایت کی تو انہیں کھیلوں کی بڑی کمپنیوں اور اسپانسرز کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ خبیب کے مطابق، اس موقف کے نتیجے میں نہ صرف ان کے اپنے تجارتی معاہدے متاثر ہوئے بلکہ دیگر کئی مسلمان فائٹرز کے کانٹریکٹس بھی مبینہ طور پر منسوخ کر دیے گئے۔ خبیب کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے لیے اپنے ضمیر کے مطابق آواز اٹھانا ایک بنیادی حق ہے، لیکن کھیلوں کی دنیا میں اکثر ایسے بیانات کو تجارتی مفادات کے تحت دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ان اقدامات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے کیونکہ انسانیت کے لیے آواز اٹھانا کسی بھی کھیل کے معاہدے سے زیادہ اہم اور بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر کھلاڑیوں کی جانب سے سیاسی و سماجی معاملات پر رائے دینے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ خبیب نورماگومیدوف، جو اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑیوں کو اپنی مذہبی اور اخلاقی شناخت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ ان پر دباؤ ڈالا گیا، لیکن انہوں نے اپنے موقف کو کبھی تبدیل نہیں کیا، جس سے ان کے مداحوں کی جانب سے انہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے کھیلوں کی صنعت میں آزادی اظہار اور کھلاڑیوں کی ذاتی زندگی کے درمیان توازن پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خبیب کے یہ الفاظ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہیں کہ کامیابی کے باوجود انسانی اقدار کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔