LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا کا فلمی صنعت کے ذریعے معاشی بہتری کا عزم

News Image
انڈونیشیا کی حکومت ملک میں غیر ملکی فلمی پروڈکشنز کو راغب کرکے تخلیقی معیشت کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر تخلیقی معیشت ٹیوکو ریفکی ہرسا کے مطابق اس اقدام سے مقامی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر پہچان ملے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انڈونیشیا کی حکومت نے ملکی معیشت کو نئی جہت دینے اور تخلیقی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک اہم حکمت عملی وضع کی ہے۔ کریٹیو اکانومی کے وزیر ٹیوکو ریفکی ہرسا کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے متنوع اور خوبصورت مقامات بین الاقوامی فلم سازوں کے لیے ایک پرکشش مرکز ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر دنیا بھر کے بڑے پروڈکشن ہاؤسز اپنی فلموں کی شوٹنگ انڈونیشیا میں کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف ملک کی خوبصورتی عالمی سطح پر اجاگر ہوگی بلکہ سیاحت اور متعلقہ خدمات کے شعبوں میں بھی زبردست معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور بیانات کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد انڈونیشیا کو فلمی صنعت کے لیے ایک فیورٹ ڈیسٹی نیشن بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ تخلیقی معیشت مقامی فلم سازوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ اس اقدام سے مقامی ٹیکنیشنز، اداکاروں اور عملے کو عالمی معیار کے پروجیکٹس پر کام کرنے کا موقع ملے گا، جس سے ملکی تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا اور مستقبل میں مقامی فلم انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی۔ معاشی ماہرین اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں کیونکہ فلمی پروڈکشنز کے دوران بڑی مقدار میں غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آتی ہے، جس سے مقامی ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ اور دیگر متعلقہ چھوٹے کاروباروں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ وزیر ٹیوکو ریفکی ہرسا نے زور دیا کہ حکومت غیر ملکی فلم سازوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں ٹیکس میں رعایت، شوٹنگ کے اجازت ناموں کا حصول آسان بنانا اور لوکیشنز تک رسائی کو بہتر کرنا شامل ہے۔ آخر میں، انڈونیشیا کی یہ کوشش صرف فلم سازی تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کی برانڈنگ کا ایک بڑا حصہ ہے۔ جیسے جیسے زیادہ بین الاقوامی فلمیں انڈونیشیا کے پس منظر میں بنیں گی، دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی، جو طویل المدتی بنیادوں پر ملک کی جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ حکومت اب اس منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ انڈونیشیا کو جنوب مشرقی ایشیا میں فلم پروڈکشن کا سب سے بڑا مرکز بنایا جا سکے۔